ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے پر جولائی تک دستخط متوقع، پیوش گوئل کا دعویٰ
مرکزی وزیر پیوش گوئل نے کہا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے کو جولائی کے وسط تک حتمی شکل دی جا سکتی ہے، جس سے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا

نئی دہلی: مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے زیر غور دوطرفہ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے پر جولائی تک دستخط ہو سکتے ہیں۔ ان کے بیان سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات میں تیزی آنے اور جلد کسی نتیجے پر پہنچنے کی امید مضبوط ہوئی ہے۔
ایک پروگرام کے دوران ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ حالیہ محصولات سے متعلق اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بات چیت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور باقی ماندہ معاملات کو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے حکام مسلسل رابطے میں ہیں اور دونوں فریق ایسے حل کی تلاش میں مصروف ہیں جو دونوں معیشتوں کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔ ان کے مطابق مذاکرات میں کئی اہم معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہوا ہے جبکہ چند نکات پر مزید مشاورت کی جا رہی ہے۔
پیوش گوئل نے اپنے گزشتہ ہفتے کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے مختلف تجارتی محکموں کے افسران کا ایک اعلیٰ سطحی وفد نئی دہلی آیا تھا، جس نے ہندوستانی حکام کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔ اس ملاقات کا مقصد مجوزہ معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر پیش رفت کو یقینی بنانا اور باقی رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔
وزیر تجارت کے مطابق دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دی جائے اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے منڈیوں تک رسائی بہتر بنائی جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاہدے کا پہلا مرحلہ جولائی کے وسط تک حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ان کے بقول یہ ایک مضبوط اور مؤثر ابتدائی مرحلہ ہوگا جو مستقبل میں مزید وسیع اقتصادی تعاون کی بنیاد بنے گا۔
ماہرین کے مطابق مجوزہ معاہدہ ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے کئی شعبوں میں نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حجم میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور سپلائی چین کو مزید متنوع بنانے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہندوستان اور امریکہ عالمی اقتصادی حالات کے پیش نظر باہمی تجارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے پر زور دے رہے ہیں۔ اگر معاہدے کا پہلا مرحلہ کامیابی کے ساتھ مکمل ہو جاتا ہے تو مستقبل میں ایک زیادہ جامع اور وسیع تجارتی معاہدے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جس سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو نئی مضبوطی ملے گی۔
