مہاراشٹر میں اب وزیر اعلیٰ کو کسی بھی وزیر کا فیصلہ تبدیل کرنے کا ہوگا اختیار

نئے قوانین کے تحت اب وزیر اعلیٰ عوامی مفاد سے متعلق کسی بھی معاملے میں وزراء کے فیصلے کو تبدیل یا منسوخ بھی کر سکتے ہیں۔ حالانکہ نیم عدالتی معاملات میں وزیر اعلیٰ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہوگا۔

دیویندر فڈنویس / ویڈیو گریب
i

مہاراشٹر حکومت نے حکومت کے کام کاج سے متعلق قوانین میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ نئے قوانین کے تحت اب وزیر اعلیٰ عوامی مفاد سے متعلق کسی بھی معاملے میں وزراء کے فیصلے کو تبدیل یا منسوخ بھی کر سکتے ہیں۔ حالانکہ نیم عدالتی معاملات میں وزیراعلیٰ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ کسی وزیر کے فیصلے میں تبدیلی کرنے پر وزیر اعلی کو اس کی وجہ تحریری طور پر بتانی ہوگی۔ ’محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن‘ کی جانب سے ’مہاراشٹر گورنمنٹ کنڈکٹ آف بزنس رولز، 2026‘ میں ترمیم کیا گیا ہے۔ نئے قوانین کے نفاذ کے ساتھ ہی حکومت کے اندر وزیر اعلی کے اختیارات کو واضح کیا گیا ہے۔ انتظامی سطح پر چیف سکریٹری کو محکموں سے معلومات اور دستاویزات طلب کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

نئے قوانین کے مطابق وزیر اعلیٰ ریاست کے کسی بھی محکمہ سے فائلیں یا اہم دستاویزات طلب کر سکتے ہیں۔ متعلقہ وزیر اور محکمہ کے سکریٹری کو یہ دستاویزات مہیا کرانے ہوں گے۔ اسی طرح چیف سکریٹری بھی کسی محکمہ کے سکریٹری سے ضروری اطلاعات اور دستاویزات طلب کر سکیں گے۔ اگر کسی حکومتی قاعدے کی تشریح کے متعلق کوئی تنازعہ بڑھتا ہے تو متعلقہ معاملہ وزیر اعلی کے پاس بھیجا جائے گا۔ حکومت پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے والے یا سرکاری ریونیو میں رعایت دینے والے فیصلوں کے لیے محکمۂ مالیات کی پیشگی منظوری ضروری ہوگی۔ زمین، ریونیو، معدنیات اور جنگلات کے حقوق سے وابستہ معاملوں میں رعایت، لیز یا لائسنس دینے کے وقت مقررہ طریقۂ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ نیا قانون بنانے، موجودہ قانون میں ترمیم کرنے یا قانون نافذ کرنے سے قبل اس کے مسودہ کو جانچ کے لیے محکمہ قانون و انصاف کو بھیجنا ضروری ہوگا۔


ایسے کسی فیصلے سے مرکزی حکومت یا کسی دیگر ریاست کے ساتھ تنازعہ پیدا ہونے کا خدشہ ہوتو اس کی اطلاع وزیر اعلی اور گورنر کو فوری دینی ہوگی۔ حکومت ضرورت کے مطابق چیف سکریٹری، ایڈیشنل چیف سکریٹری یا پرنسپل سکریٹری کی صدارت میں خصوصی اختیارات کے ساتھ کمیٹیاں بھی تشکیل دے سکے گا۔ وزیر اعلی کے وزراء کے فیصلوں میں مداخلت کے اختیارات کو لے کر 2022 میں معاملہ سامنے آیا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے چندر پور ضلع مرکزی بینک کی تقرری سے وابستہ فیصلے پر ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے سوال اٹھائے تھے۔ عدالت نے کہا تھا کہ وزیر اعلی کو وزیر کے فیصلے میں مداخلت کرنے یا اسے تبدیل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اب حکومت نے انتظامیہ کے کام کاج کے اصولوں میں ترمیم کر کے وزیر اعلی کے اختیارات کو واضح کر دیا ہے۔ نئے اصولوں کے تحت اب مفاد عامہ میں وزیر اعلی کسی بھی وزیر کے فیصلے میں تبدیلی یا انہیں مسترد کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے تحریری طور پر وجہ بتانی ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔