ہندوستان میں کہیں گائے کا ذبیحہ ممنوع تو کہیں اونٹ کا، آئیے ڈالیں سرسری نظر

کئی ریاستوں میں گائے اور بچھڑوں کے ذبیحہ پر پابندی عائد ہے، لیکن بھینسوں کے ذبیحہ پر پابندی نہیں ہے۔ ان میں بہار، جھارکھنڈ، اوڈیشہ، تلنگانہ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور گوا جیسی ریاستیں شامل ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>  یو این آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

بقرعید میں جانوروں کی قربانی کے معاملے پر اس وقت ہندوستان میں کافی ہنگامہ برپا ہے۔ اترپردیش، مہاراشٹر اور دہلی سمیت کئی ریاستی حکومتوں نے گائیڈلائن جاری کی ہے۔ کھلے میں قربانی پر روک ہے اور گائے، اونٹ اور بچھڑے جیسے جانوروں کی قربانی پر بھی سخت پابندی عائد ہے۔ جانوروں کے ذبیحہ کو لے کر ہر ریاست میں مختلف قوانین ہیں۔ ایسے میں ذیل میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر کس ریاست میں کون کون سے جانوروں پر پابندی عائد ہے۔

کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں گائے کے ذبیحہ پر مکمل طور پر پابندی ہے۔ ان میں کئی مقامات پر بیل اور بچھڑوں کا ذبیحہ بھی ممنوع ہے۔ قانونی وضاحت کے مطابق دہلی، گجرات، ہریانہ، ہماچل پردیش، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، پنجاب، راجستھان، اترپردیش، اتراکھنڈ اور چنڈی گڑھ میں گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی ہے۔ اترپردیش کا قانون سب سے پرانے قوانین میں سے ایک مانا جاتا ہے، جو 1955 کا ہے۔ یہ ریاست میں کسی بھی شخص کے ذریعہ گائے، بیل یا بچھڑے کے ذبح کرنے یا ذبح کرنے کے لیے پیش کرنے پر پابندی عائد کرتا ہے اور کسی بھی دیگر قانون یا مقامی رسم و رواج سے بالاتر ہے۔ پنجاب میں بھی تقریباً ایسا ہی قانون ہے، جو گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کرتا ہے۔ لیکن ان معاملوں کو چھوڑ کر جب جانوروں کا ڈاکٹر یہ تصدیق کرے کہ جانور کوئی مرض لاحق ہے یا اسے کوئی متعدی بیماری ہے۔ جبکہ مہاراشٹر میں دوسری ریاستوں سے آیا گائے کا گوشت جرم کے دائرے میں نہیں آتا ہے۔


کئی ریاستوں میں گائے اور بچھڑوں کے ذبیحہ پر پابندی عائد ہے، لیکن بھینسوں کے ذبیحہ پر پابندی نہیں ہے۔ ان میں بہار، جھارکھنڈ، اوڈیشہ، تلنگانہ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور گوا جیسی ریاستیں آتی ہیں۔ حالانکہ کیرلم، مغربی بنگال، اروناچل پردیش، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، تریپورہ اور سکم جیسی ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی نہیں ہے۔ حالانکہ ان ریاستوں میں لائسنس یافتہ مقامات پر ہی ذبیحہ کی اجازت دی جاتی ہے۔

اونٹ کے متعلق راجستھان میں سخت قوانین ہیں۔ راجستھان حکومت نے اونٹ کو ریاستی جانور قرار دیا تھا اور اسی وجہ سے اسے گائے کی طرح تحفظ حاصل ہوا۔ اونٹ کی کم ہوتی آبادی کو روکنے کے لیے یہ قانون لایا گیا ہے۔ ایسے میں راجستھان میں اونٹ کے ذبیحہ پر پابندی ہے۔ راجستھان کے ٹونک میں 150 سال سے ہو رہی اونٹ کی قربانی پر بھی کچھ سال قبل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔