بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ سے ملاقات کرنے جامعہ ملیہ اسلامیہ پہنچے عمران پرتاپ گڑھی

عمران پرتاپ گڑھی نے کہا، ’’جامعہ کی طلبہ یونین بحالی کے مطالبہ پر 10 دن سے بھوک ہڑتال جاری ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ جامعہ انتظامیہ کو اپنے طلبہ کی کوئی فکر نہیں اور انہیں ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر محمد تسلیم</p></div>
i

نئی دہلی: ہندوستان کی موقر یونیورسٹی ’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘ میں پچھلے کئی روز سے طلبہ یونین کو بحال کرنے کی جدو جہد جاری ہے۔ اسی درمیان کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی بدھ کی شام جامعہ ملیہ اسلامیہ پہنچے، طلبہ سے ان کا احوال جانا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔

اپنے فیس بک آفیشیل پیج کی پوسٹ میں عمران نے لکھا، ’’جامعہ کے طلبہ گزشتہ 10 دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ طلبہ یونین کو بحال کیا جائے۔ افسوس کی بات ہے کہ جامعہ انتظامیہ کو اپنے طلبہ کی کوئی فکر نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس تحریک چلانے والے طلبہ کو ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘

عمران پرتاپ گڑھی نے کہا، ’’طلبہ کو دھمکیاں دے کر بھوک ہڑتال ختم کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آج بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ سے ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔‘‘ انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد طلبہ کے مطالبات تسلیم کر کے تحریک ختم کرانے کے لیے آگے آئے۔

عمران پر تاپ گڑھی کے ہمراہ دہلی کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئر مین عبد الواحد قریشی بھی موجود تھے، انہوں نے فون پر بتایا کہ عمران پر تاپ گڑھی اور وہ آٹو رکشا سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر وہ ذاتی گاڑی سے جامعہ ملیہ اسلامیہ جاتے تو پولیس انہیں طلبہ سے ہرگز ملنے نہیں دیتی۔


عبد الواحد قریشی نے کہا کہ ’’طالب علمی کا زمانہ اور کالج کے دن ہر کس و ناکس کے لئے زندگی میں خود کو سنوارنے اور اپنی صلاحتیوں کو پہنچاننے کا موقع دیتا ہے اور اسی درمیان کالج و یونیورسٹی میں جو لوگ سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ طلبہ یونین کا الیکشن لڑتے ہیں، اسی عمل سے وہ قیادت کا سفر طے کرتے ہیں اور مستقبل میں ملک کی سیاست میں بڑے رہنما بن کر ابھرتے ہیں۔ ہمارے سامنے اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں اسی لئے یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ طلبہ یونین کو بحال کرے تاکہ ہمارے ملک کو مستقبل میں تعلیم یافتہ رہنما مل سکیں۔‘‘