گیان واپی مسجد احاطے میں وضو خانے کے سروے کا معاملہ، الہ آباد ہائی کورٹ میں آج اہم سماعت
ہندو فریق کی عرضی میں وارانسی سول کورٹ کے 21 اکتوبر2023 کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں عدالت نے اے ایس آئی کو گیانواپی مسجد کے وضو خانہ علاقے کا سروے کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔

وارانسی تاریخی گیانواپی مسجد احاطے میں واقع وضو خانہ کے سائنسی سروے کے مطالبہ سے متعلق ایک اہم معاملے کی منگل (آج) الہ آباد ہائی کورٹ سماعت کرے گا۔ اس معاملے میں جسٹس روہت رنجن اگروال کی سنگل بنچ دوپہر 2 بجے شرنگار گوری معاملے کی درخواست گزار راکھی سنگھ کی طرف سے دائر نظر ثانی کی درخواست پر سماعت کرے گی۔ اس عرضی کے ذریعہ وارانسی سول کورٹ کے 21 اکتوبر2023 کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں عدالت نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو گیانواپی مسجد کے وضو خانہ علاقے کا سروے کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔
عرضی گزار راکھی سنگھ نے اپنی پٹیشن میں مطالبہ کیا ہے کہ احاطے کے دیگر حصوں کی طرح وضو خانہ کا بھی سائنسی سروے کرایا جائے تاکہ متنازعہ مقام کی حقیقت سامنے آسکے۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ وضو خانے کے مقام پر موجود ڈھانچہ ایک شیولنگ ہے جبکہ مسلم فریق اسے پانی کا چشمہ بتاتا ہے۔ گیانواپی مسجد معاملے میں سول جج سینئر ڈویژن کی فاسٹ ٹریک عدالت نے ہندو فریق کو بڑا جھٹکا دیا تھا۔ عدالت نے ہندو فریق کی جانب سے دائر درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ اس فیصلے سے وکلاء اور ہندو فریق کے حامیوں میں مایوسی پھیل گئی۔
عدالت نے کہا تھا کہ پورے گیان واپی احاطے کا سروے نہیں کرایا جائے گا۔ ہندو فریق کی درخواست میں پورے گیان واپی احاطے کے اے ایس آئی سروے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جسےعدالت نے مسترد کر دیا تھا۔ عدالتی حکم کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا تھا۔ عدالت میں ہندو فریق نے گیانواپی مسجد کے مرکزی گنبد کے نیچے شیولنگ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندو فریق نے کھدائی اور اے ایس آئی سروے کا مطالبہ کیا ہے۔ حالانکہ مسلم فریق نے ہندو فریق کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کھدائی سے مسجد کی جگہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس معاملے کی جڑیں گہری ہیں اور یہ سپریم کورٹ میں بھی زیر التوا ہے۔ سپریم کورٹ کے عبوری حکم نامے کے مطابق نچلی عدالتوں کو سروے سمیت کوئی بھی موثرعبوری یا حتمی حکم دینے سے روک دیا گیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اس عرضی کو خود ساختہ لارڈ آدی ویشیشور سے متعلق ایک دیگر عرضی کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ دونوں معاملے اب ایک ساتھ سنے جائیں گے۔ عدالت کے اس اقدام کو گیانواپی تنازعہ کے مختلف پہلوؤں کو مربوط انداز میں دیکھنے کی سمت ایک قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سماعت سے گیانواپی احاطے کے متنازعہ علاقوں پر ازسرنو بحث چھڑنے کا امکان ہے۔ فریقین کے وکلاء اپنے دلائل کے ساتھ تیار ہیں اور پورا ملک فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔