حصولِ اراضی پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، کسانوں کو ملے گا بڑھا ہوا معاوضہ
سی جے آئی سوریہ کانت کی بنچ نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ جو معاملے پہلے ہی مکمل طور پر نمٹائے جا چکے ہیں اور جن میں کسانوں نے معاوضہ قبول کر لیا ہے، انہیں اب دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے حصولِ اراضی سے متاثرہ کسانوں کو بڑی راحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2013 سے قبل حاصل کی گئی زمین کے لیے بھی مناسب معاوضہ، سولیٹیم (اضافی معاوضہ) اور سود کی ادائیگی کی جانی چاہیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف مالی بوجھ کا حوالہ دے کر کسانوں کے آئینی حقوق کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ دراصل نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر 2013 سے قبل مختلف ہائی وے منصوبوں کے لیے حاصل کی گئی زمین پر دیے گئے بڑھے ہوئے معاوضے، سولیٹیم اور سود کے پرانے فیصلوں پر نظر ثانی کی درخواست کی گئی تھی۔ این ایچ اے آئی نے دلیل دی تھی کہ 2013 کے ’لینڈ ایکوزیشن ایکٹ‘ کے بعد ایسے ہزاروں معاملوں میں معاوضے کی بہت بڑی مالی ذمہ داری (تقریباً 29000 کروڑ روپے) حکومت پر آ گئی ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے ’این ایچ اے آئی‘ کی اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ صرف مالی بوجھ بڑھنے کی دلیل معاوضہ کم کرنے کی قانونی بنیاد نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ سولیٹیم اور سود کی ادئیگی کو صرف اس لیے نہیں روکا جا سکتا کہ اس سے حکومت پر بڑا معاشی بوجھ پڑے گا۔ منصفانہ معاوضہ کی آئینی ضمانت کو کسی بھی انتظامی یا مالی مجبوری کے سبب کمزور کرنا ممکن نہیں ہے۔
عدالت نے زمین کے مالکان کے حقوق اور قانونی یقین کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے ایک اہم شرط رکھی ہے۔ حکم کے مطابق صرف وہی زمین مالکان اضافی معاوضہ اور سود کا دعویٰ کرنے کے حقدار ہوں گے جن کے بڑھے ہوئے معاوضے کے معاملات 28 مارچ 2015 تک کسی مجاز فورم کے پاس زیر التوا تھے۔ اس تاریخ تک زیر التوا رہنے والے مقدمات میں قانون کے مطابق مناسب ریلیف اور سود فراہم کیا جائے گا۔
سی جے آئی سوریہ کانت کی بنچ نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ جو معاملے پہلے ہی مکمل طور پر نمٹائے جا چکے ہیں اور جن میں کسانوں نے معاوضہ قبول کر لیا ہے، انہیں اب دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ جن لوگوں نے اضافی معاوضہ اور سود کا معاملہ اپنے اصل دعووں میں شامل نہیں کیا تھا یا جو اپنا دعویٰ مکمل کر چکے ہیں، وہ اس نئے حکم سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ قانونی چارہ جوئی میں یقین برقرار رکھنے کے لیے پرانے بند معاملات کو دوبارہ بحال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے ’ترسیم سنگھ‘ معاملہ میں دیے گئے گزشتہ فیصلے کے دائرہ کار کو محدود کرتے ہوئے این ایچ اے آئی کی نظرثانی کی درخواست پر یہ ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ قانون کے تحت کسان سود کے حقدار ہیں، لیکن دعووں کو لامتناہی طور پر دوبارہ کھولنے کی اجازت دینا مناسب نہیں ہوگا۔ اس فیصلے سے ان ہزاروں کسانوں کو فائدہ پہنچے گا جن کی قانونی جنگ برسوں سے جاری تھی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔