خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر، پریمیم پٹرول اور انڈسٹریل ڈیزل ہوا مہنگا
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایندھن کی لاگت میں یہ رجحان جاری رہتا ہے تو اس کا اثر آہستہ آہستہ مہنگائی اور سپلائی چین پر بھی پڑ سکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ کے درمیان تیل کمپنیوں نے پریمیم پٹرول کی قیمتوں میں 2 روپے فی لیٹر تک اضافے کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ (20 مارچ) سے ’اسپیڈ/پاور‘ پریمیم پٹرول کی قیمت میں 2.09 روپے سے 2.35 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیا گیا ہے۔ پہلے اس کی قیمت 111.68 فی لیٹر تھی، جسے اب بڑھا کر 113.77 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ تاہم نارمل پٹرول کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ پریمیم پٹرول کی قیمت بڑھنے کا براہ راست اثر ان لوگوں پر پڑے گا جو ہائی آکٹین-ایندھن کا استعمال کرتے ہیں، کیونکہ یہ انجن کی بہتر کارکردگی اور زیادہ مائلیج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
پریمیم پٹرول کے علاوہ انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی) نے انڈسٹریل ڈیزل کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ اب قیمت 87.67 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 109.59 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ انڈسٹریل ڈیزل عام پٹرول پمپوں پر فروخت نہیں ہوتا ہے۔ اسے براہ راست فیکٹریاں، بڑے جنریٹر، مائننگ کمپنیاں، کنسٹرکشن سائٹس اور پاور پلانٹس خریدتے ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایندھن کی لاگت میں یہ رجحان جاری رہتا ہے تو اس کا اثر آہستہ آہستہ مہنگائی اور سپلائی چین پر بھی پڑ سکتا ہے۔ فی الحال مارکیٹ کی نظریں بین الاقوامی تیل کی قیمتوں اور تیل کپمنیوں کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں۔ انرجی مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ عالمی خام تیل کی مارکیٹ میں عدم استحکام اور سپلائی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کی علامت ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ نے عالمی توانائی کی سپلائی چین پر دباؤ بڑھایا ہے، جس سے تیل کمپنیوں کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وجہ سے ایندھن کے منتخب زمروں میں قیمتوں پر نظر ثانی کی گئی ہے۔
عام صارفین کے لیے راحت کی بات یہ ہے کہ نارمل پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایندھن کی لاگت میں اس طرح کے اضافے کا اثر بالواسطہ طور پر عام صارفین تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ جب صنعتی پیداوار اور مال برداری مہنگی ہوتی ہے تو اس کا اثر بالآخر اشیاء اور سروسز کی قیمتوں پر نظر آتا ہے، جس سے مہنگائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر مقامی ایندھن کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ فی الحال نارمل پٹرول اور ڈیزل کے دام مستحکم رہنے سے عام گاڑی چلانے والوں کو وقتی راحت ضرور ملی ہے، لیکن انرجی مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان مستقبل میں مزید تبدیلیوں کے امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔