مشرق وسطیٰ میں بحران کا اثر! راجستھان میں برآمدات ٹھپ، جے پور میں پھنس گئے 2,000 سے زیادہ کنٹینر
موجودہ بحران کا سب سے زیادہ اثرراجستھان کی گرینائٹ اورماربل صنعت پر پڑا ہے۔ یہاں کے جالور، کشن گڑھ اور اجمیر میں فیکٹریاں بند ہونے لگی ہیں، جس سے ہرماہ تقریباً 800 کروڑ روپے کا کاروبار متاثر ہوا ہے۔

ایران- امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں پائی جارہی کشیدگی کا اثراب ہندوستان کے کاروبار پر بھی صاف طور پرنظرآرہا ہے۔ اس حوالے سے ملک کے مختلف حصوں میں پھیلی تشویش کے دوران راجستھان سمیت جے پور کا برآمدی کاروبار شدید طور پرمتاثر ہوا ہے۔ خلیجی ممالک کو عملی طور پر برآمدات بند ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں کنٹینر جے پور کے یارڈ میں جمع ہوگئے ہیں۔
جے پور کے کنٹینر یارڈ سے وابستہ ایک کاروباری شریف کے مطابق پہلے جہاں 150 کنٹینرز نظرآتے تھے، اب ان کی تعداد بڑھ کر 2000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ اور بحیرہ احمر کے علاقے میں خطرات کے پیش نظر بحری جہازوں نے اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں۔ اس وجہ سے کنٹینر کی مال برداری کی شرح 300-500 ڈالر سے بڑھ کر 2,000-4,500 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ جنگی سرچارجز کے سبب انشورنس پریمیم بھی 1,200-2,400 ڈالر سے بڑھا دیا گیا ہے جبکہ ڈیلیوری میں 10-15 دن کی تاخیر ہو رہی ہے۔
موجودہ حالات میں جے پور کے کنک پورہ آئی سی ڈی کے ساتھ ساتھ مندرا پورٹ اور جواہر لعل نہرو پورٹ (جے این پی اے) جیسی بڑی بندرگاہوں پر کنٹینروں کی بھیڑ بڑھ گئی ہے۔ وہیں شپنگ کمپنیوں کی جانب سے بکنگ منسوخ کرنے اور جہازوں کے وقت پر نہ پہنچنے کی وجہ سے ملک بھر میں ایک اندازے کے مطابق 2500 سے 3000 کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں۔
اس بحران کا سب سے زیادہ اثر راجستھان کی گرینائٹ اور ماربل انڈسٹری پر پڑا ہے۔ جالور، کشن گڑھ اور اجمیر میں فیکٹریاں بند ہونا شروع ہو گئی ہیں، جس سے ہر ماہ تقریباً 800 کروڑ روپے کا کاروبار متاثر ہوا ہے۔ جالور میں 80 فیصد یونٹس بند ہونے کی دہلیز پر کھڑی ہیں جبکہ گزشتہ دو ہفتے کے دوران 250 یونٹ بند ہو چکی ہیں۔ خبروں کے مطابق اس طرح لگاتار یونٹوں کے بند ہونے سے 6 ہزار سے زائد مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے اور کئی خاندانوں کو روزمرہ کے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس دوران صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں کشیدگی کم ہونے تک بحران جاری رہ سکتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔