کابینہ میں جب این آر سی پر بحث نہیں ہوئی تو وزیر داخلہ کیوں بیان دے رہے ہیں: یچوری

سی پی ایم لیڈر سیتارام یچوری نے کہا کہ نریندر مودی تقریر کررہے تھے کہ کسی کی شہریت نہیں چھین رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ شہریت کے ساتھ مذہب کو کیوں جوڑ رہے ہیں؟

تصویر سوشل میڈیا
i
user

یو این آئی

google_preferred_badge

نئی دہلی: مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے قومی شہری رجسٹر (این آر سی) سے منسلک وزیراعظم نریندر مودی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اتوار کو سوال کیا کہ جب این آر سی پر کابینہ میں کوئی بحث نہیں ہوئی تو پھر وزیر داخلہ امت شاہ بار بار اسے نافذ کرنے کا بیان کیوں دے رہے ہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آر سی کے خلاف طلباء کے مظاہرہ کو اپنی حمایت دینے پہنچے سیتارام یچوری نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم مودی کو این آر سی پر صورتحال واضح کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا قانون لانا آئین کے خلاف ہے۔ اس ملک کی مقدس کتاب ہے ہمارا آئین۔ ہم آئین کے دفاع اور اپنے حقوق کے لئے لڑیں گے۔


سی پی ایم لیڈر سیتارام یچوری نے کہا کہ نریندر مودی تقریر کررہے تھے کہ کسی کی شہریت نہیں چھین رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ شہریت کے ساتھ مذہب کو کیوں جوڑ رہے ہیں؟ آئین میں مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کا ذکر نہیں تو پھر مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کی کیوں بات ہورہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب این آر سی پر کابینہ میں بحث نہیں ہوئی تو پھر شاہ بار بار کیوں این آر سی لگانے کی بات کر رہے ہیں۔ سیتارام یچوری نے کہا کہ وزیراعظم جی، آپ واضح کریے کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ پچاس کھرب ڈالر کی معیشت کی بات کر رہے ہیں لیکن اپنی ایک گھنٹے کی تقریر میں عام معاملات کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ کسان خودکشی کر رہا ہے، لوگ مہنگائی سے نبردآزما ہیں اور معیشت ڈوب رہی ہے لیکن ان مسائل کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ سیتارام یچوری نے آخر میں نعرہ لگایا کہ ’مودی صاحب ساودھان‘ اور اس کے بعد موجود لوگوں نے زوردار آواز میں کہا ہم بچائیں گے سنویدھان۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 22 Dec 2019, 10:11 PM