کسانوں کو جبراً ہٹایا گیا تو سرکاری دفاتر کو غلہ منڈی میں تبدیل کر دیں گے، راکیش ٹکیت کا انتباہ

دہلی پولیس نے جمعرات کی شب سے غازی پور اور ٹیکری بارڈر سے بریکیڈ ہٹانے شروع کر دئے، جہاں کسان تینوں زرعی قوانین کے خلاف مدت طویل سے جد و جہد کر رہے ہیں

راکیش ٹکیت، تصویر آئی اے این ایس
راکیش ٹکیت، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ اگر کسانوں کو جبراً ہٹانے کی کوشش کی گئی تو سرکاری دفاتر کو ہم غلہ منڈی میں تبدیل کر دیں گے۔ راکیش ٹکیت نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب دہلی کے غازی پور اور ٹیکری بارڈر سے بیریکیڈ ہٹائے جانے اور راستہ پوری طرح سے کھولے جانے کے معاملہ پر کسان لیڈران اور پولیس انتظامیہ کے درمیان رسہ کشی چل رہی ہے۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راکیش ٹکیت نے کہا، ’’ہمیں اطلاع موصول ہوئی ہے کہ انتظامی افسران جے سی بی کے ذریعے مظاہرہ کرنے والے کسانوں کے خیمے ہٹانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو کسان اپنے خیمے پولیس اسٹیشن میں نصب کر دیں گے۔


دہلی پولیس نے جمعرات کی شب سے غازی پور اور ٹیکری بارڈر سے بیریکیڈ ہٹانے کا عمل شروع کیا ہے، جہاں کسان تینوں زرعی قوانین کے خلاف مدت طویل سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ یہ راستہ گزشتہ 11 مہینوں سے بند ہے اور دہلی میں نومبر کے اواخر سے کسانوں کی دہلی کے سنگھو بارڈر، ٹیکری اور غازی پور بارڈر پر جاری تحریک کو ایک سال مکمل ہو جائے گا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسانوں کے راستہ روکنے کے سبب مسافروں اور مقامی باشندگان کو بھاری پریشانی ہو رہی ہے۔ جبکہ کسان لیڈران اور سنیوکت کسان مورچہ نے لگاتار کہا ہے کہ ان کی جانب سے راستہ نہیں روکا گیا ہے، بلکہ پولیس انتظامیہ نے بیریکیڈ نصب کر کے ایسا کیا ہے۔


دو روز قبل جے سی بی مشین کے ذریعے دہلی پولیس کے اہلکار ٹیکری بارڈر سے رکاوٹوں کو ہٹاتے ہوئے نظر آئے تھے۔ سپریم کورٹ میں بھی اس معاملہ پر سماعت ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے پہلے ہی سماعت کے دوران کہا تھا کہ راستوں کو غیر معینہ مدت کے لیئے بند ن ہیں کیا جا سکتا۔ تاہم عدالت میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ راستہ کسانوں نے نہیں بلکہ ایسا انتظامہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔