ناگالینڈ میں آسام رائفلز کے قافلے کے پاس آئی ای ڈی دھماکہ، ایک جوان جاں بحق، 4 زخمی

آسام رائفلز کا ایک قافلہ معمول کے گشت پر تھا، تبھی سڑک کے کنارے نصب ایک طاقتور آئی ای ڈی میں دھماکہ ہو گیا۔ یہ واقعہ ناگالینڈ کے چوموکیڈیما علاقے میں پیش آیا۔

سیکورٹی اہلکار، تصویر یو این آئی
i

ناگالینڈ کے سکھووی علاقے میں آسام رائفلز کے قافلے کے قریب مشتبہ امپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس (آئی ای ڈی) دھماکے کی خبر سامنے آئی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اس دھماکے میں ایک جوان جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ 4 دیگر جوان زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکہ ناگالینڈ کے چوموکیڈیما علاقے میں ہوا ہے۔ ایک ہفتے کے اندر یہ دوسری بار ہے کہ آسام رائفلز کے قافلے کے قریب آئی ای ڈی دھماکہ ہوا ہے۔ اس واقعے کے بعد پورے علاقے میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے اور بڑے پیمانے پر تلاشی مہم چلائی جا رہی ہے۔

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق آسام رائفلز کا ایک قافلہ معمول کے گشت پر تھا، تبھی سڑک کے کنارے نصب ایک طاقتور آئی ای ڈی میں دھماکہ ہو گیا۔ یہ واقعہ ناگالینڈ کے چوموکیڈیما علاقے میں پیش آیا، جسے سیکورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس مانا جاتا ہے۔ دھماکے کے بعد آسام رائفلز، ناگالینڈ پولیس اور فوج کے اضافی دستوں کو علاقے میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ چوموکیڈیما اور آس پاس کے جنگلات میں سرچ آپریشن چلایا جا رہا ہے۔ واقعے کے فوراً بعد تمام زخمی جوانوں کو قریبی میڈیکل سنٹر منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ افسران کے مطابق شدید زخمی جوانوں کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔


دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملے کے پیچھے ملوث افراد کا پتا لگانے کے لیے وسیع پیمانے پر تلاشی مہم شروع کر دی ہے۔ سیکورٹی ایجنسیاں آس پاس کے علاقوں میں بھی تفتیش کر رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حملے کی منصوبہ بندی کس نے کی تھی اور اس میں کون کون ملوث تھا۔ دھماکے کی تحقیقات کے لیے بم ڈسپوزل اسکواد اور فرانزک ماہرین کی ٹیموں کو بھی جائے وقوعہ پر بھیج دیا گیا ہے۔ یہ ٹیمیں دھماکے کی جگہ سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں اور یہ پتا لگانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ استعمال کیا گیا بارودی مواد کس قسم کا تھا اور اسے کس طرح نصب کیا گیا تھا۔

یہ واقعہ اس لیے بھی تشویش کا باعث بن گیا ہے کیونکہ ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں شمال مشرقی ہندوستان میں آسام رائفلز کو نشانہ بنا کر کیا گیا یہ دوسرا بڑا حملہ بتایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 6 جولائی کو منی پور کے اکھرول ضلع میں مشتبہ دہشت گردوں نے آسام رائفلز کے ایک قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں آسام رائفلز کی 40 ویں بٹالین کے 2 جوان شہید ہو گئے تھے۔ حملے کے بعد کافی دیر تک فریقین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا، جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاشی مہم چلائی تھی۔


اکھرول حملے میں شہید ہونے والے جوانوں کی شناخت وارنٹ آفیسر بلونت سنگھ اور رائفل مین سی ایم سنگھ کے طور پر ہوئی تھی۔ دونوں اس وقت قافلے کی ایک گاڑی میں موجود تھے۔ افسران کے مطابق حملے میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور بعد میں علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔