کرکٹ عالمی کپ: نیوزی لینڈ دعویدار، سری لنکا کو بہتر پرفارمینس کی ضرورت

نیوزی لینڈ کی ٹیم گزشتہ عالمی کپ کی فائنلسٹ رہی ہے، اس عالمی کپ میں وہ خطاب کی دعویداروں میں بھلے ہی شمار نہ کی جارہی ہو لیکن وہ ایک مضبوط اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی ٹیم ہے جو گیم کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
i
user

یو این آئی

کارڈف: تبدیلی کے دور سے گزر رہی سری لنکا کی ٹیم کے خلاف نیوزی لینڈ آئی سی سی ورلڈ کپ میں ہفتہ کے روز فاتحانہ مہم کے ساتھ آئندہ ٹورنامنٹ میں بڑےکھیل کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم گزشتہ عالمی کپ کی فائنلسٹ رہی ہے۔ موجودہ عالمی کپ میں وہ خطاب کی دعویداروں میں بھلے ہی شمارنہ کی جارہی ہو لیکن وہ ایک مضبوط اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی ٹیم ہے جو گیم کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔

ٹورنامنٹ کے آغاز سے پہلے پریکٹس میچوں میں کیوی ٹیم نے پہلے ہی میچ میں دو بار عالمی چیمپئن ہندوستان کے خلاف چھ وکٹوں سے بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف وہ بھلے ہی 400 سے زائد کے بڑے ہدف کا تعاقب کرنے سے ما ت کھا گئی ہو لیکن اس کی کوشش جاری ر ہی اور 330 رن بنا کر ہار کے فرق کو کم کیا تھا۔ اس سے واضح ہے کہ نیوزی لینڈ میں بڑے ہدف کو تعاقب کی صلاحیت ہے۔


دوسری طرف سری لنکائی ٹیم اپنے سرکردہ کھلاڑیوں کے ریٹائرمنٹ کے بعد سے تبدیلی کے دور سےگزر رہی ہے۔ سری لنکا کو اپنے پریکٹس میچوں میں جنوبی افریقہ سے 87 رن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ دوسرے میچ میں وہ آسٹریلیا سے پانچ وکٹ سے ہار گئی تھی۔ اس کارکردگی نے یقیناً اس کے حوصلے کو متاثر کیا ہے اور نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں اس پر نفسیاتی دباؤ رہے گا۔

سال 1996 کی چیمپئن سری لنکا کی ٹیم کو بھی اگرچہ کمزور تصور نہیں کیا جا سکتا ہے جس کا عالمی کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف بہترین ریکارڈ رہا ہے۔اب تک عالمی کپ کے کل 98 میچوں میں سری لنکا نے 41 جبکہ نیوزی لینڈ نے 48 میچوں کو جیت لیا ہے۔آٹھ میچوں میں کوئی نتائج نہیں نکلا جبکہ ایک میچ برابر رہا تھا۔ موجودہ حالات میں سری لنکا کمزور ٹیموں میں ہے لیکن اس کی بھی کوشش رہے گی کہ وہ بہتر نتائج سے حریف ٹیموں پر دباؤ بنا سکے۔


پریکٹس میچوں میں مایوس کن کارکردگی کے بعد سری لنکا کی ٹیم کو اپنے تجربہ کار کھلاڑیوں سے کافی امیدیں رہیں گی۔کپتان دمتھو كرونارتنے اور اینجیلو میتھیوز مشکل حالات کو سنبھال سکتے ہیں۔ سال 2014 میں نیوزی لینڈ کے خلاف كرونارتنے سنچری لگا چکے ہیں اوربلے بازی میں ایک بار پھر ان کا اہم کردار رہے گا۔ اس کے علاوہ سینئر تیزگیندباز لست ملنگا سے بھی شراکت کی توقع رہے گی۔

نیوزی لینڈ کی طرف سے ٹرینٹ بولٹ اور جمی نيشم نے ہندوستان کے خلاف پریکٹس میچ میں متاثر کن گیند بازی کرتے ہوئے حریف ٹیم کے مضبوط بلے بازی آرڈر کو روکا تھا۔ بولٹ کے 33 رن پر چار وکٹ کی کارکردگی متاثر کن تھی جبکہ نيشم نے شاندار گیندبازی کرتے ہوئے 26 رن پر تین وکٹ حاصل کیے تھے۔


وہیں بلے بازوں میں کپتان کین ولیمسن اور راس ٹیلر نے 67 اور بالترتیب 71 رنز کی نصف سنچری اننگز سے ٹیم کو جیت دلائی تھی۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف 106 رنز کی سنچری اننگز کھیلنے والے وکٹ کیپر ٹام بلنڈیل بھی کیوی ٹیم کے اہم اسکورر ہیں جبکہ مارٹن گپٹل، هیني نکولس ، آل راؤنڈر کولن ڈی گرینڈهومے بلے بازی آرڈر کے دیگر اہم کھلاڑی ہیں جو سری لنکا کے خلاف جیت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ دلچسپ ہے کہ نیوزی لینڈ نے 2015 ورلڈ کپ میں بھی اپنی مہم کا آغاز سری لنکا کے خلاف 98 رنز کی جیت کے ساتھ کیا تھا اور 2019 میں بھی ان کی کوشش اسی کارکردگی کو دوہرا کر فارم کو برقرار رکھنے کی ہوگی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔