بہار بورڈ: پنکچر بنانے والے کی بیٹی صبرین پروین بنی ٹاپر، اپنی محنت سے لکھی کامیابی کی داستان

بہار میٹرک 2026 کے نتائج میں صبرین پروین نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے محنت سے مقام بنایا اور ڈاکٹر بننے کا خواب ظاہر کیا، جبکہ دیگر طالبات نے بھی عمدہ کارکردگی دکھائی

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پٹنہ: بہار اسکول ایگزامینیشن بورڈ (بی ایس ای بی) کے میٹرک امتحان 2026 کے نتائج میں کامیابی کی کئی متاثر کن کہانیاں سامنے آئی ہیں، جن میں ویشالی کی طالبہ صبرین پروین کا نام خاص طور پر نمایاں ہے۔ صبرین نے نہ صرف اعلیٰ نمبرات حاصل کیے بلکہ اپنی محنت اور عزم سے یہ ثابت کیا کہ محدود وسائل بھی بڑے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے۔

صبرین پروین کے والد ایک ٹائر پنکچر کی دکان چلاتے ہیں اور اسی محنت مزدوری سے گھر کا خرچ چلاتے ہیں۔ سادہ پس منظر سے تعلق رکھنے والی صبرین نے اپنی کامیابی کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے گھنٹوں کے حساب سے نہیں بلکہ روزانہ اپنے لیے ایک ہدف مقرر کر کے پڑھائی کی۔ ان کے مطابق منظم انداز میں کی گئی محنت ہی اصل کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی اس کامیابی پر بے حد خوشی ہے اور وہ مستقبل میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں تاکہ لوگوں کی خدمت کر سکیں۔ صبرین نے دیگر طلبہ کو بھی پیغام دیا کہ اگر وہ سنجیدگی سے اور صحیح حکمت عملی کے ساتھ پڑھائی کریں تو وہ بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔


اس سال کے نتائج میں لڑکیوں نے ایک بار پھر اپنی برتری ثابت کی ہے۔ جموئی کی پشپانجلی کماری نے بھی اعلیٰ مقام حاصل کیا جبکہ بیگوسرائے کی نہید سلطانہ اور دیگر طلبہ نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔ ٹاپ تین پوزیشن میں ایک ہی طالب علم اونکار کمار شامل ہیں، باقی تمام پوزیشنز پر طالبات کا غلبہ رہا۔

اسی سلسلے میں سمستی پور کی جیوتی کماری کی کامیابی بھی قابلِ ذکر ہے، جنہوں نے چوتھا مقام حاصل کیا۔ جیوتی ایک چائے فروش کی بیٹی ہیں اور ان کی کامیابی نے بھی یہ ثابت کیا کہ محنت اور لگن کے سامنے وسائل کی کمی بے معنی ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والدین اور اساتذہ کے سر باندھا اور کہا کہ مسلسل محنت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

بی ایس ای بی کے مطابق اس سال مجموعی طور پر 81.79 فیصد طلبہ کامیاب ہوئے ہیں۔ امتحان میں 15 لاکھ سے زیادہ طلبہ شریک ہوئے تھے، جن میں لڑکیوں کی تعداد اور کامیابی کا تناسب دونوں زیادہ رہے۔

بہار کی ان طالبات کی کامیابی صرف امتحانی نتائج تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک سماجی پیغام بھی ہے کہ اگر حوصلہ بلند ہو اور مقصد واضح ہو تو مشکلات بھی راستہ نہیں روک سکتیں۔ صبرین پروین کی کہانی اسی عزم اور امید کی روشن مثال بن کر سامنے آئی ہے۔