’بی جے پی میں جا کر مجھے کچھ نہیں ملا، پنجاب سے متعلق مشورہ تک نہیں لیا جاتا‘، کیپٹن امرندر سنگھ کا چھلکا درد

اگر بی جے پی میں انہیں اہمیت نہیں مل رہی تو کیا وہ پارٹی میں بنے رہیں گے؟ اس سوال کے جواب میں کیپٹن امرندر سنگھ نے کہا کہ ’’آخر متبادل ہی کیا ہے؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>کیپٹن امرندر سنگھ، تصویر یو این آئی</p></div>
i

پنجاب کی سیاست میں طویل عرصہ تک کانگریس کے سب سے بڑے چہروں میں شامل رہے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ نے بی جے پی میں اپنے 4 سالہ سفر کو لے کر کھل کر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ’دی ٹریبیون‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امرندر سنگھ نے کہا کہ بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں ملا اور پنجاب کی سیاست سے متعلق پارٹی نے کبھی ان سے مشورہ نہیں لیا۔ کیپٹن امرندر سنگھ نے واضح لفظوں میں کہا کہ انہیں بی جے پی میں شامل ہونے کا افسوس نہیں ہے، لیکن 4 سال میں انہیں کیا حاصل ہوا، اس کا جواب ان کے پاس نہیں۔

بی جے پی میں 4 سال گزارنے کے بعد جب سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ سے پوچھا گیا کہ انہیں کیا حاصل ہوا، تو ان کا درد صاف دیکھنے کو ملا۔ انہوں نے واضح انداز میں جواب دیا کہ ’’کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی پارٹی میں شامل ہوتا ہے تو امید کی جاتی ہے کہ اس سے مشورہ لیا جائے گا، خاص طور پر اس وقت جب وہ تقریباً 60 برس سے پنجاب کی سیاست کو سمجھتا رہا ہو۔ امرندر سنگھ نے بتایا کہ کانگریس سے الگ ہونے کے بعد انہوں نے اپنی پارٹی بنائی تھی۔ بعد میں ان کے حامیوں کی رائے تھی کہ پارٹی کا بی جے پی میں انضمام کر دیا جائے۔ ان کے مطابق کانگریس میں واپس جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا اور اکالی دل میں واپسی کا بھی سوال نہیں تھا، اس لیے بی جے پی میں انضمام کا فیصلہ کیا گیا۔


کیپٹن امرندر سنگھ نے بی جے پی میں اپنے کردار کو لے کر سب سے بڑا دعویٰ یہ کیا کہ گزشتہ 5 برسوں میں پنجاب کی پالیسی یا سیاست کے حوالے سے ان کی پارٹی کے ساتھ ایک بھی میٹنگ نہیں ہوئی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بی جے پی واقعی ان سے مشورہ نہیں کرتی، تو انہوں نے واضح جواب دیا کہ پنجاب کی سیاست یا پالیسی کے حوالے سے بی جے پی کے ساتھ ان کی ایک بھی میٹنگ نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کو زمینی سیاست کو سمجھنے والے لیڈروں سے مشورہ لینا چاہیے۔ ان کے مطابق انہوں نے بلاک سطح سے سیاست دیکھی ہے اور پنجاب میں 6 بار رکن اسمبلی، 2 بار رکن پارلیمنٹ اور 2 بار وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔

انٹرویو میں جب کیپٹن امرندر سنگھ سے براہ راست پوچھا گیا کہ کیا بی جے پی پنجاب کو سمجھتی ہے، تو امریندر سنگھ نے جواب دیا ’’نہیں۔‘‘ ان کے مطابق بی جے پی طویل عرصہ تک پنجاب میں اقتدار میں نہیں رہی، اس لیے اسے ریاست کے سیاسی نظام کو سمجھنے کے لیے زمینی سطح سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف وزیر بننے سے کسی ریاست کی سیاست کی مکمل سمجھ حاصل نہیں ہوتی، سیاست کو سمجھنے کے لیے بلاک اور ضلع کی سطح سے کام کرنا پڑتا ہے۔ امرندر سنگھ نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کو ان جیسے تجربہ کار لوگوں سے کم از کم مشورہ تو لینا چاہیے۔ اگر ان کا مشورہ غلط لگے تو اسے مسترد کیا جا سکتا ہے، لیکن تجربہ رکھنے کے باوجود مشورہ نہ لینا مناسب نہیں ہے۔


اگر بی جے پی میں انہیں اہمیت نہیں مل رہی تو کیا وہ پارٹی میں بنے رہیں گے؟ اس سوال کے جواب میں کیپٹن امرندر سنگھ نے کہا کہ ’’کیا متبادل ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ اکالی دل میں نہیں جا سکتے اور انہیں نہیں لگتا کہ کانگریس انہیں واپس لے گی۔ تاہم، انہوں نے کانگریس کے ساتھ اپنے پرانے تعلق کو بھی تسلیم کیا۔ امرندر سنگھ کے مطابق وہ تقریباً 50 برس کانگریس کے ساتھ رہے ہیں اور پارٹی ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کانگریس چھوڑنے کا فیصلہ انہوں نے خود نہیں کیا تھا، بلکہ کانگریس قیادت نے ان سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا اور انہوں نے اسے قبول کر لیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔