’زخمی ہوں اس لیے خطرناک ہوں، جھوٹ کو بے نقاب کیا جائے گا‘، راگھو چڈھا نے عآپ لیڈران کے الزامات پر پیش کی صفائی

راگھو چڈھا نے کہا کہ ’’میرے خلاف ایک مہم چلائی جا رہی ہے۔ پہلے مجھے لگا کہ اس کا جواب نہیں دینا چاہیے لیکن پھر لگا کہ ایک جھوٹ کو 100 بار بولا جائے تو وہ سچ لگنے لگتا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>راگھو چڈھا / آئی&nbsp; اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پنجاب سے عام آدمی پارٹی (عآپ) کے راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا نے ایک ویڈیو جاری کر اپنی ہی پارٹی کے لیڈران کے ذریعہ عائد کیے جا رہے الزامات پر صفائی پیش کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ پر لائیو آ کر راگھو چڈھا نے ایک ایک کر کے تمام الزامات کا جواب دیا ہے اور یہ واضح کیا ہے ان کے خلاف عائد کیے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان کا مقصد پارلیمنٹ میں ان کی آواز کو دبانا ہے۔ چڈھا نے کہا کہ میرے خلاف ایک مہم چلائی جا رہی ہے۔ پہلے مجھے لگا کہ اس کا جواب نہیں دینا چاہیے لیکن پھر لگا کہ ایک جھوٹ کو 100 بار بولا جائے تو وہ سچ لگنے لگتا ہے۔

راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کی طرف سے ان پر 3 بڑے الزمات عائد کیے گئے ہیں۔ پہلا الزام ہے کہ جب اپوزیشن ایوان میں واک آؤٹ کرتے ہیں تو راگھو چڈھا وہیں بیٹھے رہتے ہیں، یہ سراسر جھوٹ ہے۔ ایک دن ایسا بتایا جائے جب اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا ہو اور میں نے ان کا ساتھ نہ دیا ہو۔ پارلیمنٹ میں ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے ہیں، آپ اس کی فوٹیج نکال کر دکھا دیجیے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ وہ ہمیشہ اپوزیشن کے ساتھ رہے ہیں اور ہر مسئلہ پر کھل کر بولے ہیں۔ ساتھ ہی حکمراں جماعت سے سوال بھی کیے ہیں۔


راگھو چڈھا نے کہا کہ مجھ پر دوسرا الزام یہ عائد کیا گیا کہ میں نے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے والی درخواست پر دستخط نہیں کیا تھا، یہ الزام سراسر غلط ہے۔ مجھے عآپ کے کسی لیڈر نے اس عرضی پر دستخط کرنے کے لیے نہیں کہا تھا۔ ساتھ ہی راجیہ سبھا میں پارٹی کے 10 ارکین ہیں، جن میں سے 6 یا 7 نے خودہ ہی اس درخواست پر دستخط نہیں کیے تھے۔ اب اس میں میری کیا غلطی ہے؟ سارا الزام مجھ پر ہی کیوں؟ اس درخواست کے لیے راجیہ سبھا میں صرف 50 دستخط چاہیے تھے یعنی 105 اپوزیشن اراکین میں سے 50 سے یہ درخواست مکمل ہو جاتی۔

اپنے خلاف لگائے گئے تیسرے الزام کے متعلق راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا نے کہا ان کا کہنا ہے کہ میں ڈر گیا ہوں اس لیے بے کار مسائل اٹھاتا ہوں۔ ’’میں بتا دوں کہ میں پارلیمنٹ میں چیخنے چلانے، گالی دینے یا مائک توڑنے نہیں گیا۔ میں وہاں عوام کے مسائل اٹھانے گیا ہوں۔ میں نے کون سے مسائل نہیں اٹھائے۔ جی ایس ٹی سے لے کر پانی تک، پنجاب کے پانی سے لے کر دہلی کی ہوا تک کی بات کی۔ بے روزگاری سے لے کر مہنگائی تک کے مسائل اٹھائے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’میرا ٹریک ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ میں پارلیمنٹ میں اثر ڈالنے کے لیے گیا ہوں۔ جو لوگ مجھ پر الزاما عائد کر رہے ہیں، میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ ہر جھوٹ کو بے نقاب کیا جائے گا۔ ہر سوال کا جواب دیا جائے گا۔ میں زخمی ہوں اس لیے خطرناک ہوں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔