امت شاہ کی میٹنگ: ’اے آ ئی یو ڈی ایف‘ کی شہریت ترمیمی بل کی پر زور مخالفت

مجوزہ شہریت بل پر غور خوض کے لئے وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے بلائی گئی شمال مشرق کے تمام صوبوں کے ذمہ داران کی میٹنگ کے دوران اے آ ئی یو ڈی ایف نے شہریت ترمیمی بل کی پر زور مخالفت کی

تصویر سوشل میڈیا
i
user

یو این آئی

google_preferred_badge

نئی دہلی: مجوزہ شہریت بل پر غور خوض کے لئے وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے بلائی گئی شمال مشرق کے تمام صوبوں کے وزرائے اعلی، وزرائے داخلہ، سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں اور مختلف گروپوں کے ذمہ داروں کی میٹنگ میں اے آ ئی یو ڈی ایف نے شہریت ترمیمی بل کی پر زور مخالفت کی۔

اے آ ئی یو ڈی ایف کی ہفتہ کے روز جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے شہریت ترمیمی بل کو پارلیمنٹ سے پاس کر واکر قانونی شکل دینے کی کوششوں اور اس بل کے خلاف پورے نارتھ ایسٹ کے صوبوں میں لوگوں کی جانب سے زبر دست مخالفت کے درمیان دہلی میں واقع آسام ہاؤس میں ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے ایک میٹنگ بلائی گئی تھی جس میں نارتھ ایسٹ کے تمام صوبوں کے وزرائے اعلی، وزرائے داخلہ، سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں اور مختلف گروپوں کے ذمہ داروں کو مدعو کیا گیا تھا تاکہ شہریت ترمیمی بل پر بات کرکے سب کی حمایت حاصل کی جا سکے۔


مولانا بدر الدین اجمل کی قیادت والی آسام کی اہم سیاسی پارٹی آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کی جانب سے پارٹی کے جنرل سکریٹری ایڈووکیٹ امین الاسلام نے میٹنگ میں شرکت کرکے صاف لفظوں میں کہا کہ ہم اس طرح کے بل کی پر زور مخالفت کرتے ہیں کیوں کہ یہ ہندوستان کے آئین کی مختلف دفعات کے خلاف ہے اور اس بل کی بنیاد ہی مذہبی تعصب پر ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ سے کہا کہ آپ جو بل لانا چاہ رہے ہیں وہ مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنے والا ہے جوکہ آئین ِ ہند کے آرٹیکل ۴۱ کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ایک طرف آپ 2014 تک باہر سے آنے والے غیر مسلموں کو شہریت دینے کی وکالت کر رہے ہیں اور دوسری طرف آپ کی پارٹی کے لیڈران 1951کو بنیاد بنا کر این آر سی بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ یعنی این آر سی کی زد میں صرف اور صرف مسلمان ہی آئے گاجو کہ سراسر نا انصافی ہے۔

امین الاسلام نے کہاکہ ہندوستان کے آئین کی بنیاد جمہوریت اور سیکولرزم پر ہے مگر یہ بل ہندوستانی آئین کی روح کے منافی ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگر یہ شہریت ترمیمی بل قانونی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آسام کے لئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں تیار ہونے والا این آر سی جس کے لئے1600 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں اور تقریبا پچپن ہزار لوگوں نے جس کے لئے پانچ سال تک کام کیا اس کی کوئی حیثیت نہیں رہ جا ئے گی کیونکہ اس سے باہر رہنے والے تمام غیر مسلموں کو شہریت مل جائے اور صرف مسلمانوں کو ڈیٹینشن کیمپ میں ڈال دیا جائے گا۔


انہوں نے کہاکہ تیسری بات یہ کہ کئی سالوں تک چلنے والی تحریک کے بعد آسام میں امن و امان قائم کرنے کے لئے1985 میں آسام اکارڈ بنا تھا جس کے تحت 24 مارچ 1971 تک آنے والے لوگوں کو ہندوستانی شہری تسلیم کیا جائے گا جبکہ اس کے بعد آنے والوں کو غیر ملکی مانا جائے مگر جب یہ شہریت ترمیمی بل پاس ہوجانے کی صورت میں آسام اکورڈ کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا کیونکہ اس کی وجہ سے 2014تک آنے والے غیر مسلموں کو شہریت دے دی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ چوتھی بات یہ کہ اس بل کے پاس ہونے کے بعد آسام کی تہذیب اور شناخت ختم ہو جائے گی کیونکہ باہر سے جو لوگ آئیں گے وہ آسامی نہیں ہوں گے اور وہ آسام میں اکثریت میں ہو جائیں گے جس سے آسام کی شناخت کو خطرہ لاحق ہوگا حالانکہ آسام کے لوگوں نے اپنی تہذیب کے تحفظ کے لئے طویل مدت تک لڑائی لڑی ہے۔ پانچویں بات یہ کہ آپ ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ نارتھ ایسٹ کی جن ریاستوں کو دفعہ 371 کے تحت خصوصی درجہ ملا ہوا ہے اس سے چھیڑ چھاڑ نہیں کیا جائے گا، اسی طرح ٹرائیبل کے حقوق کی بھی رعایت کی جائے گی، تو اس کا مطلب ہے کہ اس بل سے صرف اور صرف مسلمانوں اور آسام کے لوگوں کو نقصان ہونے والا ہے۔


اس موقع پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم اس بل کے ذریعہ اُ ن کو شہریت دینا چاہ رہے ہیں جن کے ساتھ پڑوس کے ملکوں میں مذہب کی بنیاد پر ظلم و تشدد ہوا ہے، کسی ہندوستانی کو ٹارگیٹ کرنا مقصود نہیں ہے۔ اس پر ایڈووکیٹ امین الاسلام نے کہا کہ تقسیمِ ملک کے وقت کی بات اگر کی جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے اور بڑی تعداد میں غیر مسلم یہاں آگئے تھے جو آسام بنگال، تریپورہ وغیرہ میں آباد ہو گئے مگر اب بھی ایسا ہو رہا ہے یہ بات مشاہدہ کے خلاف ہے۔ اور اگرفرض کر لیں کہ ایسا ہو رہا ہے تو میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے بنگلہ دیش کی سرکار سے اس بارے میں کتنی بار بات کی ہے؟

مولانا بدرالدین اجمل کی ہدایت پر میٹنگ میں شرکت کے بعد ایڈووکیٹ امین الاسلام نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ مرکزی حکومت اس بل کو کسی بھی حال میں پارلیمنٹ سے پاس کروانا چاہ رہی ہے، اگر ایسا ہوا تو یہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے ایک سیاہ دن ہوگا۔ انہوں نے کہا پورے آسام میں اورشمال مشرق کی دیگر ریاستوں میں ہر روز اس کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے مگر سرکار اپنی ضد پر اڑی ہے جو اس ملک کے لئے نقصاندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی نے پہلے بھی اس بل کی مخالفت کی تھی اور اب بھی پارلیمنٹ، اسمبلی،اور سڑکوں پر اس کی پر زور مخالفت کریگی او راگر پھر بھی سرکار نے اسے قانونی شکل دے دی تو ہم سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا ئیں گے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


    Published: 30 Nov 2019, 9:34 PM