ہماچل پردیش: مانسون میں 798 کروڑ روپے کا ہوا نقصان، 145 سڑکیں بند، 224 ٹرانسفارمرز ٹھپ
ریاستی حکومت کی جانب سے جاری مجموعی مانسون نقصانات کی رپورٹ کے مطابق 30 جون سے 6 اگست 2026 کے درمیان مانسون کے باعث ریاست میں 142 افراد ہلاک جبکہ 224 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ہماچل پردیش میں جاری موسلادھار بارش نے ایک بار پھر معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ ریاستی ایمرجنسی آپریشن سنٹر (ایس ای او سی) کی جانب سے جمعہ کی صبح 10 بجے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق ریاست میں 145 سڑکیں آمد و رفت کے لیے بند ہیں، 224 بجلی کے ڈسٹریبیوشن ٹرانسفارمر (ڈی ٹی آر) بند پڑے ہیں، اور 14 پینے کے پانی کے پروجیکٹس بھی متاثر ہوئے ہیں۔
بارش کا سب سے زیادہ اثر منڈی ضلع میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں 66 سڑکیں بند پڑی ہیں۔ اس کے علاوہ منڈی میں 182 بجلی کے ٹرانسفارمر بھی متاثر ہوئے ہیں۔ کلو ضلع میں 31 سڑکیں اور 31 ٹرانسفارمر متاثر بتائے گئے ہیں۔ اسی طرح سرمور میں 28 سڑکیں، شملہ میں 12 سڑکیں، کانگڑا میں پانچ سڑکیں، اونا میں 2 سڑکیں اور کنور میں ایک سڑک بند ہے۔ کنور میں چورا-چھوٹا کمبا لنک روڈ بند ہونے سے آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
بجلی کی فراہمی کی بات کریں تو منڈی کے بعد کلو سب سے زیادہ متاثر ہے۔ شملہ میں 7 اور سولن میں 3 ٹرانسفارمر بند ہونے کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کے پروجیکٹس پر بھی بارش کا شدید اثر پڑا ہے، جن میں شملہ ضلع کے 5 پروجیکٹس سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
ریاستی حکومت کی جانب سے جاری مجموعی مانسون نقصانات کی رپورٹ کے مطابق 30 جون سے 6 اگست 2026 کے درمیان مانسون کے باعث ریاست میں 142 افراد ہلاک جبکہ 224 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس مدت کے دوران سرکاری اور غیر سرکاری املاک کو ملا کر تقریباً 797.86 کروڑ روپے کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مختلف سرکاری محکموں میں محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی، جل شکتی، تعلیم، دیہی ترقی اور دیگر محکموں کو بھی شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ غیر سرکاری املاک، مکانات، زراعت اور باغبانی کے شعبے کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔
اس درمیان ریاستی ایمرجنسی آپریشن سنٹر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ اس سے آئندہ پیش آنے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
