ہماچل پردیش: اسمبلی میں قومی ترانہ-قومی گیت تنازعہ پر زوردار ہنگامہ، محض 11 منٹ چلی کارروائی
سکھوندر سکھو نے کہا کہ کانگریس پارٹی قومی ترانہ اور قومی گیت، دونوں کا احترام کرتی ہے۔ قومی ترانہ اجلاس کے آغاز میں اور قومی گیت اجلاس کے اختتام پر گایا جاتا ہے۔ بی جے پی بلاوجہ یہ معاملہ اٹھا رہی ہے۔

ہماچل پردیش اسمبلی میں مانسون اجلاس کے پہلے ہی دن ہائی وولٹیج ڈراما دیکھنے کو ملا۔ صورت حال یہ رہی کہ اجلاس کے پہلے دن کی کارروائی محض 11 منٹ کے اندر ملتوی کرنی پڑی۔ ساتھ ہی حکمراں پارٹی اور اپوزیشن ایک دوسرے پر قومی ترانہ و گیت کی توہین اور غداری کے الزامات لگاتے نظر آئے۔
آج ’درشن سدن‘ کی کارروائی صبح 11 بجے قومی ترانہ کے ساتھ شروع ہوئی۔ اس کے بعد اپوزیشن نے ایوان کے اندر ’وندے ماترم‘ گائے جانے کا مطالبہ کیا، لیکن اسپیکر سے اجازت نہیں ملی۔ اس کے بعد ایوان میں ہنگامہ شروع ہو گیا۔ پہلے حکمراں پارٹی اپوزیشن کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے باہر آئی اور اپوزیشن پر قومی ترانہ ’جن گن من‘ کی توہین کرنے کا الزام لگایا۔ اس کے بعد اپوزیشن نے بھی اسمبلی کے باہر حکمراں پارٹی پر قومی گیت ’وندے ماترم‘ کی توہین کا الزام لگاتے ہوئے جم کر نعرے بازی کی۔ اس پورے معاملے پر اسمبلی اسپیکر نے اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ایوان کو اپنی خود مختاری حاصل ہے اور کارروائی قواعد و روایات کے تحت ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ قومی ترانے کے ساتھ ایوان کی کارروائی شروع کرنے اور قومی گیت کے ساتھ اجلاس کے اختتام کی روایت ہے۔
ایوان کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے ایوان میں قومی ترانہ کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی قومی ترانہ اور قومی گیت، دونوں کا احترام کرتی ہے۔ قومی ترانہ اجلاس کے آغاز میں اور قومی گیت اجلاس کے اختتام پر گایا جاتا ہے، لیکن بی جے پی صرف سیاسی فائدے کے لیے اس معاملے کو اٹھا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی اسمبلی کی روایات کا احترام نہیں کر رہی اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت ایتھنول بلینڈنگ اور رام مندر چندہ چوری جیسے کئی معاملات میں گھری ہوئی ہے، اس لیے عوام کی توجہ ہٹانے کے مقصد سے بی جے پی اس معاملے پر ایوان میں ہنگامہ کھڑا کر رہی ہے۔
ہماچل پردیش اسمبلی کے اسپیکر کلدیپ سنگھ پٹھانیا نے اس معاملہ میں اپنا موقف سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا سمیت کئی قانون ساز اداروں میں بھی اجلاس کا آغاز قومی ترانہ سے اور اختتام قومی گیت سے کرنے کی روایت ہے۔ اپوزیشن نے جس طرح کارروائی شروع ہوتے ہی ہنگامہ شروع کر دیا، وہ مناسب نہیں تھا۔ اس ہنگامہ کے باعث ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن آج قائد سے محروم تھی اور قائد حزب اختلاف ایوان میں موجود ہی نہیں تھے۔
