ہماچل کی کانگریس حکومت کو ملی ’سپریم‘ راحت، میئر اور ڈپٹی میئر انتخاب میں اراکین اسمبلی ڈال سکیں گے ووٹ

سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد اب اراکین اسمبلی میونسپل کارپوریشنوں، میونسپل کونسلوں اور نگر پنچایتوں میں میئر، ڈپٹی میئر، صدر اور نائب صدر کے انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو/ تصویر: آئی اے این ایس</p></div>
i

ہماچل پردیش کی سکھوندر سنگھ سکھو حکومت کو بلدیاتی اداروں کے انتخابات سے متعلق ایک اہم معاملے میں بڑی راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے اس عبوری حکم پر روک لگا دی ہے جس میں اراکین اسمبلی کو میونسپل کونسلوں اور نگر پنچایتوں کے صدر اور نائب صدر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے منع کیا گیا تھا۔ یعنی اراکین اسمبلی کے حق رائے دہی کو فی الحال بحال کر دیا گیا ہے۔

ہماچل پردیش ہائی کورٹ کی ڈویژنل بنچ نے حال ہی میں حکم دیا تھا کہ میونسپل کونسلوں اور نگر پنچایتوں کے صدر و نائب صدر کے انتخابات صرف منتخب کونسلروں کے ذریعے کرائے جائیں اور نامزد اراکین، جن میں اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں، کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ عدالت نے کہا تھا کہ متعلقہ قانون اور قواعد کے تحت اراکین اسمبلی کو ایسا اختیار حاصل نہیں ہے۔


ہماچل کی کانگریس حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل انوپ رتن نے بتایا کہ اس فیصلے کے خلاف ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے ہائی کورٹ کے عبوری حکم پر روک لگاتے ہوئے ریاستی حکومت کو راحت فراہم کی۔ سپریم کورٹ کی اس مداخلت کے بعد اب اراکین اسمبلی میونسپل کارپوریشنوں، میونسپل کونسلوں اور نگر پنچایتوں میں میئر، ڈپٹی میئر، صدر اور نائب صدر کے انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں گے۔

اس فیصلے کا براہ راست اثر ریاست کے شہری بلدیاتی اداروں میں ہونے والے انتخابات پر پڑے گا، جہاں اراکین اسمبلی کی شرکت کے حوالے سے قانونی تنازعہ جاری تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد فی الحال سابقہ نظام بحال ہو گیا ہے اور آئندہ انتخابی عمل میں اراکین اسمبلی کا کردار برقرار رہے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔