سفارتی روش سے ہلسا کا غائب ہونا!

درگا پوجا پر بنگلہ دیشی ہلسا کی کھیپ رکنے اور گجرات کی بے مزہ مچھلی کی آمد نے دو فریقی سفارت کی تلخی بڑھا دی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ہلسا مچھلی، تصویر ’ایکس‘</p></div>
i

درگا پوجا کے موقع پر ہند-بنگلہ دیش سرحد کے آر پار ہونے والی سب سے زیادہ منتظر سرگرمیوں میں سے ایک اس بار نہیں ہو رہی ہے۔ بنگلہ دیش نے ہندوستان کے لیے ہلسا مچھلی (الیش) کی اپنی روایتی خصوصی کھیپ کو اس سال منظوری نہیں دی اور اس طرح کئی دہائیوں سے چلی آ رہی ایک روایت ٹوٹ گئی۔ گزشتہ 2 برسوں کے دوران، جب ہندوستانی بنگالی برادری اپنے سب سے بڑے تہوار کی تیاریوں میں مصروف ہوتی، ڈھاکہ اپنی اس نایاب مچھلی کی سینکڑوں ٹن کھیپ بھیجنے کی اجازت دے دیتا تھا، اور اس طرح دونوں طرف کے ہلسا سے محبت کرنے والوں کی بدولت سخت سفارت کاری کے لیے زمین کچھ نرم ہو جاتی تھی۔

اگر دونوں پڑوسیوں کے تعلقات پہلے کے مقابلے زیادہ تلخ نہ ہوئے ہوتے تو شاید یہ کوئی بڑا تنازعہ نہ بنتا۔ گزشتہ 2 سال شیخ حسینہ کی تختہ پلٹ کے بعد پیدا ہونے والے خلا میں نئے سرے سے توازن قائم کرنے کی کوشش میں گزرے ہیں، جن کے نئی دہلی کے ساتھ ’غیر معمولی طور پر قریبی‘ تعلقات نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک دونوں ملکوں کے تعلقات کا تعین کیا تھا۔ ہندوستان میں شیخ حسینہ کی مسلسل موجودگی اور ڈھاکہ کی جانب سے ان کی حوالگی کا مطالبہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کی سب سے بڑی تلخی بنی ہوئی ہے۔ اس تناظر میں بنگلہ دیش کی جانب سے ہندوستان کو ہلسا کی برآمد پر لگائی گئی پابندی اہم ہو جاتی ہے۔


ستم ظریفی یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں ہلسا کی دھارا الٹی سمت میں بہتی دکھائی دی ہے۔ تجارتی بہاؤ میں ایک غیر معمولی الٹ پھیر کے دوران، 20 جولائی سے 20 ستمبر 2026 کے درمیان پیٹراپول-بینا پول سرحدی چوکی کے راستے تقریباً 553 ٹن ہندوستانی ہلسا بنگلہ دیش میں داخل ہوئی۔ اس کا بڑا حصہ گجرات سے آیا تھا، جہاں نرمدا وادی اور بحیرہ عرب کے ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہلسا ہوئی۔ تاہم 22 ستمبر کو بنگلہ دیش کے محکمہ ماہی گیری نے 103 درآمدی اجازت نامے منسوخ کرتے ہوئے اس تجارت پر اچانک تالا لگا دیا۔

گجرات کی ہلسا کو نوکرشاہی سے کہیں بڑے چیلنج کا سامنا بنگلہ دیشیوں کے روایتی ذائقے سے کرنا پڑا۔ لوگوں کی شدید شکایت تھی کہ درآمد کی گئی مچھلی، جسے مبینہ طور پر پدما کی ہلسا بتا کر فروخت کیا گیا، اس میں الیش جیسی مضبوطی، خوشبو اور مٹھاس سرے سے غائب تھی۔ ڈھاکہ کے ایک ذائقے کے شوقین نے بتایا کہ گرم سرسوں کے تیل میں ڈالتے ہی اس کے ٹکڑے بکھر گئے۔ کچھ دیگر لوگوں نے اس میں انڈوں کی ضرورت سے زیادہ مقدار ہونے کی شکایت کی، جس سے گوشت کی قدرتی مٹھاس ختم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ یہ سستی اور سائز میں بڑی تھی، لیکن اکثریتی بنگلہ دیشیوں کے لیے گجرات سے آئی یہ مچھلی کسی بھی لحاظ سے ’الیش‘ نہیں تھی۔


یہ عدم اطمینان صرف بنگلہ دیش تک محدود نہیں ہے۔ کولکاتا کے مچھلی کے تھوک تاجر بھی اس بات کو لے کر فکرمند ہیں کہ گجراتی ہلسا مقامی اقسام کو بازار سے باہر دھکیل رہی ہے۔ فش امپورٹرز ایسوسی ایشن کے سکریٹری سید انور مسعود نے ’سنڈے نوجیون‘ سے کہا، ’’ہمیں نہیں معلوم کہ خوردہ فروش کیا کہہ کر ہلسا فروخت کر رہے ہیں، کیونکہ اس پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔‘‘ انہیں اندیشہ ہے کہ گجراتی ہلسا کو وہ پریمیم قیمت نہیں مل پائے گی۔ کولکاتا کے معروف فوڈ بلاگر اور مورخ انندیہ سندر باسو کا کہنا ہے، ’’میرے لیے ہلسا کا مطلب صرف پدما، گنگا یا کولاغاٹ کی مچھلی ہے۔ اگر پتہ چل جائے کہ یہ گجرات سے آئی ہے تو میں قطعی نہیں خریدوں گا۔‘‘ باسو کے مطابق ہلسا بنگال کی شناخت، اس کے لوک ادب اور صبح کی پہلی کرن کے ساتھ جال ڈالنے والے ماہی گیر طبقے کی جدوجہد کا اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’گجرات سے آنے والی ہلسا میں نہ وہ مانوس ذائقہ ہے اور نہ ثقافتی یادیں۔‘‘

جب تک کوئی شخص بنگالی ذہن میں ہلسا کی اہمیت کو نہ سمجھے، تب تک یہ جذبات اسے مبالغہ آمیز یا بناوٹی لگ سکتے ہیں۔ الیش کھانا صبر، سلیقے اور تجربے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کے گوشت میں باریک کانٹوں کا ایسا الجھا ہوا جال ہوتا ہے جو کسی عام شخص کو مایوس کر دے۔ لیکن بنگالیوں نے اس مشکل اور لذیذ مچھلی کے گرد ایک پورا کھان پان تشکیل دیا ہے-سرسوں کے تیکھے شوربے میں پکی ہوئی، کیلے کے پتوں میں لپیٹ کر بھاپ سے تیار کی گئی، تلی ہوئی، یا پھر سبزیوں کے ساتھ پکائی گئی مچھلی۔ یہی نہیں، اس کے انڈوں کو الگ سے تل کر پیش کرنا ایک خاص ذائقہ سمجھا جاتا ہے۔ ہلسا نے بین الاقوامی سرحد کی لکیروں کو ہمیشہ بے معنی ثابت کیا ہے۔ سیاست، کرکٹ یا کسی بھی دوسرے موضوع پر تیز نوک جھونک رکھنے والے دونوں ملکوں کے بنگالی اتنی ہی شدت سے اس بحث میں الجھتے رہے ہیں کہ پدما کی ہلسا بہتر ہے یا گنگا کی۔


مختصراً کہیں تو ہلسا صرف ایک مچھلی یا زبان کا ذائقہ بھر نہیں ہے۔ یہ ایک ثقافتی شناخت اور کبھی کبھار سماجی وقار کا پیمانہ بھی ہے۔ ہلسا سے وابستہ بنگالی نفاست کی بات کرنا ایک ایسی دنیا میں داخل ہونا ہے جہاں ذائقے کی کلیاں سرحدوں سے آگے بڑھ کر یادوں، جغرافیہ اور مشترکہ شناخت سے یکجا ہو جاتی ہیں۔

شیخ حسینہ اس مشترکہ دیوانگی کو بخوبی سمجھتی تھیں۔ 1996 میں، جب دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی گنگا آبی تقسیم معاہدہ ہونے والا تھا، اس سے ٹھیک پہلے حسینہ نے مغربی بنگال کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ جیوتی باسو کو ہلسا کا تحفہ بھیجا تھا۔ آگے چل کر انہوں نے ممتا بنرجی اور پرنب مکھرجی کو بھی یہ نایاب تحفہ بھیجا۔ 2012 میں بنگلہ دیش نے ہلسا کی برآمد پر پابندیاں عائد کی تھیں، لیکن 2019 سے حسینہ حکومت نے درگا پوجا پر چھوٹ دینا شروع کر دی۔ 2021 میں بنگلہ دیش نے اس تہوار کے لیے تقریباً 2,500 ٹن مچھلی برآمد کی۔ اگلے ہی سال ممتا نے ڈھاکہ سے آئے وزیر تجارت سے ذاتی طور پر درخواست کی کہ وہ حسینہ جی سے دوبارہ ہلسا بھیجنے کی درخواست کریں۔


مگر یہ ہلسا سفارت کاری ایک غیر آرام دہ تضاد کی بنیاد پر قائم تھی۔ بنگلہ دیش اپنی قومی تھالی کی اس نایاب شناخت کو برآمد کر رہا تھا، جسے اس کے اپنے عام لوگ خریدنے کی استطاعت کھوتے جا رہے تھے۔ بنگلہ دیش میں ہلسا کی پیداوار 2022-23 کے 5,71,000 ٹن سے گھٹ کر 2024-25 میں 5,00,000 ٹن رہ گئی۔ مغربی بنگال میں بھی پیداوار 2022-23 کے 14,200 ٹن سے گھٹ کر 2024-25 میں 8,535 ٹن تک محدود ہو گئی، جبکہ گزشتہ دہائیوں میں یہ 15-20,000 ٹن سے بھی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ اس قلت نے قیمتوں میں آگ لگا دی۔ اس ستمبر ڈھاکہ میں ہلسا 2,000 سے 3,200 ٹکا (تقریباً 1,550 سے 2,500 ہندوستانی روپے) فی کلو فروخت ہوئی۔ وہیں کولکاتا میں گنگا یا کولاغاٹ کی ایک کلو سے زیادہ وزن والی ہلسا 1,500 سے 1,800 روپے فی کلو کے دام پر فروخت ہو رہی ہے۔ محققین اس شدید قلت کے لیے اندھا دھند مچھلی پکڑنے، باریک جالوں کے استعمال، گاد جمع ہونے، آلودگی اور ماحولیاتی دباؤ کے مہلک امتزاج کو ذمہ دار مانتے ہیں۔ مغربی بنگال میں بڑی ہونے سے پہلے ہی چھوٹی مچھلیوں (کھوکا الیش) کے بڑے پیمانے پر شکار سے رسد کا بحران مزید گہرا ہوا ہے۔ کولکاتا کے مچھلی کے تاجروں کا کہنا ہے کہ گجرات سے آنے والی ’غیر بنگالی‘ ہلسا کو اصلی بتا کر بازار میں اتارا گیا، تاکہ بنگلہ دیش اور مغربی بنگال دونوں جگہ کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔

معاملہ صرف یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ایک اور سفارتی تنازع اس وقت کھڑا ہو گیا جب نئی دہلی میں واقع بنگلہ دیش ہائی کمیشن نے 26 ستمبر کو ’الیش فیسٹ‘ کا انعقاد کیا۔ دعوت میں مدعو مہمانوں میں ابھیجیت ایئر مترا بھی تھے، جنہیں الجزیرہ نے 2023 کی ایک رپورٹ میں نفرت انگیز تبصروں کے تناظر میں ’انتہا پسند دائیں بازو کے ہندوتوا نظریہ ساز‘ قرار دیا تھا۔ (ایئر مترا نے 2024 میں عوامی طور پر بنگلہ دیشیوں اور روہنگیا کو ہندوستان سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔) خبروں کے مطابق ایئر مترا نے کہا کہ سبکدوش ہونے والے ہائی کمشنر ریاض حامد اللہ نے ان کے لیے ’تلی ہوئی الیش کی ایک پوری ہانڈی‘ محفوظ رکھوائی تھی۔ اس تقریب کے سیاسی پیغام کو سمجھنا مشکل نہیں تھا۔ ایسے وقت میں جب ہلسا نایاب اور ناقابل برداشت حد تک مہنگی ہو چکی تھی، جب پوجا کے روایتی برآمد پر پابندی لگی ہوئی تھی، تب بنگلہ دیش کا سفارتی مشن اس کی دعوتیں اڑا رہا تھا اور ایک ایسے تبصرہ نگار کی میزبانی کر رہا تھا جو ’بنگلہ دیشیوں‘ کے خلاف زہر اگلنے کے لیے جانا جاتا ہے۔


ہلسا کی سیاست کا شاید یہ سب سے سیاہ پہلو ہے۔ ایک دور تھا جب بنگالیوں کی یہ پسندیدہ مچھلی بھائی چارے اور مشترکہ ورثے کا پیغام لے کر سرحد پار کرتی تھی۔ آج ہندوستان کا دائیں بازو کا دھڑا بنگلہ دیشیوں کو ’دیمک‘ اور درگا پوجا میں گوشت کھانے والے ہندوستانی بنگالیوں کو ’منافق‘ قرار دینے میں مصروف ہے۔ اس زہریلے ماحول میں بنگلہ دیشی ہلسا کا سرحد پار نہ آ پانا اسی دوری اور علیحدگی کو گہرا کرتا ہے، جسے اس کی ’گجراتی چچیری بہن‘ صرف اور نمایاں کر رہی ہے۔

(فیصل محمود ڈھاکہ اور سوربھ سین کولکاتا سے)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔