زائرین کی سہولت کے لیے مکہ اور مدینہ کے درمیان تیزرفتار ٹرین سروس

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان تیز رفتار ٹرین سروس کی وجہ سے زائرین کے لیے ان دو شہروں کے درمیان سفر کا دورانیہ دو گھنٹے 20 منٹ کا رہ گیا ہے۔

تصویر بشکریہ hhr-retail.com
تصویر بشکریہ hhr-retail.com
user

یو این آئی

ریاض: سعودی عرب نے زائرین کی سہولت کے لیے مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان تیز رفتار ٹرین سروس کا آغار کر دیا ہے۔ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان تیز رفتار ٹرین سروس کی وجہ سے زائرین کے لیے ان دو شہروں کے درمیان سفر کا دورانیہ دو گھنٹے 20 منٹ کا رہ گیا ہے۔ 300 کلومیٹر فی گھنٹہ (کے پی ایچ) سے زیادہ کی رفتار سے چلنے والی حرمین ایکسپریس سلطنت کے مربوط ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ اس جدید، تیز رفتار ٹرین میں 400 سے زیادہ بزنس اور اکانومی کلاس مسافروں کی گنجائش ہے جب کہ اس کے ٹکٹ کی قیمت 40 سے 150 سعودی ریال کے درمیان رکھی گئی ہے جو کہ 10.60 ڈالر سے 40 ڈالر تک بنتی ہے۔ اپنے سفر کے دوران یہ ٹرین جدہ اور کنگ عبداللہ اکنامک سٹی کے اسٹیشنز پر بھی رکتی ہے۔

سعودی وزارت حج اور عمرہ کی جانب سے فراہم کردہ ویزا اسکیم کے تحت سلطنت میں قیام کے دوران دنیا بھر کے لوگوں کو عمرہ کرنے کی اجازت ہے۔ ثقافتی اور مذہبی مقامات پر دوروں اور زیارتوں سے متعلق مسائل اور مشکلات کا خاتمہ کرنا اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا سعودی ویژن 2030 کے اہم اہداف ہیں۔ سعودی عرب کے ’ویژن 2030‘ اصلاحاتی منصوبے کے تحت کئی حیرت انگیز تعمیری منصوبوں، جدید ٹیکنالوجی سے لیس جدید آلات اور شاندار اصلاحات متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ تیز رفتار ٹرین سروس کا آغاز اس ویژن کا پایہ تکمیل تک پہنچنے والا تازہ ترین پراجیکٹ ہے۔


واضح رہے کہ اس سے قبل، سعودی عرب کے ’ویژن 2030‘ اصلاحاتی منصوبے کے تحت انٹرٹینمنٹ شعبے میں دارالحکومت ریاض میں دیوہیکل انٹرٹینمنٹ کمپلیکس کی تعمیر کا اعلان کیا تھا جس میں کئی سنیما، لائیو پرفارمنسز کے مقامات اور کھیل کی سہولیات میسر ہوں گی۔منصوبے سے متعلق عرب نیوز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایک لاکھ اسکوائر میٹر رقبے پر پھیلے اس کمپلیکس کی تعمیر سے سالانہ 5 کروڑ افراد کو تفریح کی سہولت میسر آئے گی، 22 ہزار سے زائد ملازمتیں فراہم کی جائیں گی جبکہ 2030 تک ان منصوبوں سے سعودیہ کی معیشت کو 8 ارب ریال حاصل ہوں گے۔

یاد رہے کہ ویژن 2030 کے تحت ہی سعودی عرب نے تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے دنیا بھر سے ’غیر معمولی‘ کارکردگی دکھانے والے افراد کو شہریت دینے کا اعلان کیا تھا۔ سعودی عرب کے اس اقدام کا مقصد ویژن 2030 کے تحت معیشت کو نئی جہت بخشنے کے لیے دنیا بھر سے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد کو سعودی عرب آنے پر راغب کرنا تھا۔ خیال رہے کہ انقلابی ویژن 2030 کے تحت ہی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک منفرد شہر کو تعمیر کرنے کا اعلان بھی کیا تھا جس میں گاڑیاں یا سڑکیں نہیں ہوں گی۔ اس شہر کو دی لائن کا نام دیا گیا ہے جو کہ سعودی عرب کے 500 ارب ڈالرز کے اسمارٹ سٹی منصوبے نیوم (جس کا اعلان نومبر 2017 میں ہوا تھا) کا حصہ ہوگا۔


دی لائن میں الٹرا ہائی اسپیڈ ٹرانزٹ سسٹم، خودکار ڈرائیونگ والی گاڑیاں اور ایسا شہری لے آؤٹ ہوگا جو بنیادی سہولیات جیسے اسکول اور طبی مراکز رہائشیوں تک پہنچائے گا۔ ان سب مقامات پر کسی بھی جگہ سے 5 منٹ تک پیدل چل کر پہنچنا ممکن ہوگا اور کوئی بھی سفر 20 منٹ سے زیادہ طویل نہیں ہوگا۔ سعودی اعلان کے مطابق اس شہر میں 10 لاکھ افراد رہائش پذیر ہوں گے جو 170 کلو میٹر رقبے پر پھیلا ہوگا اور ماحول دوست توانائی سے اس کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔ اس شہر کی تعمیر کے لیے 180 ارب سعودی ریال خرچ کیے جائیں گے جبکہ 3 لاکھ 80 ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔