خامنہ ای کے قتل کے بعد ہندوستان میں سکیورٹی الرٹ، وزارت داخلہ کی ریاستوں کو سخت ہدایات

حکومت نے امریکی اور اسرائیلی سفارت خانوں، قونصل خانوں، یہودی اداروں اور غیر ملکی سیاحوں کے جمع ہونے والے مقامات پر خصوصی سکیورٹی تعینات کرنے کی ہدایت دی ہے

<div class="paragraphs"><p>وزارت داخلہ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مرکزی وزیر داخلہ نے 28 فروری کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل اور اس کے بعد ہوئے امریکی-اسرائیلی حملوں کے مدنظر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت دی ہے۔ وزارت نے امن و امان کی صورتحال بگڑنے کے امکان کے پیش نظر تمام سکیورٹی ایجنسیوں کو انتہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق ایران نواز اور ایران مخالف گروہوں کی حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ہندوستانی زمین کا استعمال کسی بھی غیرملکی گروہ کی جانب سے جنگ کے میدان کے طور پر نہ ہو، یہ یقینی بنانے کے لیے دہلی میں واقع سفارت خانوں اور حساس مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔


حکومت نے امریکی اور اسرائیلی سفارت خانوں، قونصل خانوں، یہودی اداروں اور غیر ملکی سیاحوں کے جمع ہونے والے مقامات پر خصوصی سکیورٹی تعینات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ساتھ ہی ایرانی ثقافتی مراکز کو بھی سکیورٹی گھیرے میں لیا گیا ہے۔ پولیس کو سی سی ٹی وی کوریج بڑھانے، دھماکہ خیز مواد کی جانچ کرنے اور افواہوں یا جھوٹی خبروں کو فوری طور پر روکنے کے سخت احکامات دیے گئے ہیں۔ سکیورٹی ایجنسیوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کسی بھی صورت میں غیر ملکی مشنوں کی سکیورٹی میں کوئی کوتاہی نہ ہو اور ہندوستانی سرزمین پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

سکیورٹی ایجنسیاں مذہبی اجتماعات میں دیے جانے والے کسی بھی اشتعال انگیز خطاب کو روکنے کے لیے متحرک ہو گئی ہیں۔ پولیس انتظامیہ کو ہدایات دی گئی ہیں کہ ایران نواز یا ایران مخالف حامیوں کی جانب سے کیے جانے والے کسی بھی احتجاج کو امن و امان کا مسئلہ بننے سے پہلے ہی کنڑول کریں۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر انتہا پسند تنظیموں اور ایران نواز شدت پسندوں کی سرگرمیوں پر بھی مسلسل نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ ملک کے اندرونی امن کو متاثر کرنے والی کسی بھی سرگرمی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور قانون کے دائرے میں کارروائی کی جائے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔