تعلیم کے لیے جو قرض طلباء نے لیا، اسے معاف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں: مودی حکومت
وزیر مملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکر نے پیر کے روز لوک سبھا میں بتایا کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جو قرض ضرورت مند طلباء کو دیے گئے، اس قرض کو معاف کرنے کا حکومت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

نئی دہلی: مرکز کی مودی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ ملک اور غیر ملکوں میں طلبا کو اعلی تعلیم حاصل کرنےمیں مدد کےلئے قرض مہیا کیا جارہا ہے اور اس سے اب تک لاکھوں طلبا کو فائدہ پہنچا ہے، لیکن اس قرض کو معاف کرنے کا اس کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکر نے پیر کو لوک سبھا میں ایک ضمنی سوال کے جواب میں بتایا کہ منصوبے کے تحت ملک میں تعلیم حاصل کرنے کےلئے طلبا کو دس لاکھ روپے اور غیر ملکوں میں تعلیم حاصل کرنے کےلئے 20لاکھ روپے تک کا قرض دیا جاتا ہے۔منصوبے کے تحت چار لاکھ روپے تک کے قرض کےلئے کوئی گارنٹی نہیں ہے جبکہ ساڑھے سات لاکھ روپے تک کےلئے قرض لینے کےلئے تھرڈ پارٹ کی گارنٹی کا التزام ہے۔
انوراگ ٹھاکر نے کہاکہ یہ ٹرم لون ہے اور اس کی ادائیگی 15سال کے اندر کی جانی ہے۔اس میں ایک سال کےلئے طلبہ کو قرض لوٹانے میں راحت دینے کا بھی التزام کیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے بینکوں کو تعلیم میں غیر ہراساں پالیسی اختیار کرنے کےلئے کہا ہے۔
وزیر مملکت نے واضح لفظوں میں کہاکہ اس قرض کو معاف کرنے کا حکومت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔یہ قرض سبھی ضرورت مند طلبہ کےلئے ہے۔اس قرض سے متعلق معلومات حاصل کرنے کےلئے ودیا لکشمی پورٹل تیار کیاگیاہے،جس میں ساری معلومات دی گئی ہے۔پچھلے تین برس کے دوران بقایا ایجوکیشن لون ستمبر تک 75450.68کروڑ روپے ہوگیا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
