طلبہ و نوجوانوں کے مسائل کے حل کے لیے حکومت پُرعزم، ہر ضلع کے طلبہ سے مشورے لیں گے: ہیمنت سورین
ہیمنت سورین نے کہا ہے کہ حکومت طلبہ اور نوجوانوں کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے۔ تمام اضلاع کے طلبہ، ماہرین تعلیم اور پالیسی سازوں سے مشورے لے کر امتحانی نظام میں اصلاحات کی جائیں گی

رانچی: جھارکھنڈ میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ احتجاج کے درمیان وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے کہا ہے کہ ان کی حکومت طلبہ اور نوجوانوں سے متعلق مسائل کے ٹھوس اور عملی حل کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت طلبہ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے اور امتحانی و تقرری کے نظام میں ضروری اصلاحات کے لیے وسیع پیمانے پر مشاورت کی جائے گی۔
اسمبلی احاطے میں جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہیمنت سورین نے کہا کہ حکومت نے طلبہ کو مذاکرات کا راستہ پہلے ہی بتا دیا ہے اور وہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے سننے کی خواہش رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے تمام طلبہ و طالبات اپنے خیالات اور تجاویز حکومت تک پہنچا سکتے ہیں تاکہ ایسا نظام تیار کیا جا سکے جو طلبہ کے مفاد اور ضروریات کے مطابق ہو۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رانچی میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی آراء جتنی اہم ہیں، اتنی ہی اہم ریاست کے دیگر اضلاع میں رہنے والے طلبہ اور نوجوانوں کی رائے بھی ہے۔ اسی لیے حکومت صرف راجدھانی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ تمام اضلاع سے طلبہ کی تجاویز حاصل کرے گی تاکہ اصلاحات کا عمل جامع اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والا ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جلد ہی ریاست اور ملک بھر کے طلبہ، ماہرین تعلیم اور پالیسی سازوں سے مشورے جمع کرے گی۔ ان تجاویز کی بنیاد پر مقررہ مدت کے اندر ضروری اصلاحات اور مثبت تبدیلیوں کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مستقبل میں امتحانی نظام زیادہ شفاف، مضبوط اور طلبہ دوست بنایا جا سکے۔
اس موقع پر جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے رہنما جینت جے پال سنگھ نے بھی کہا کہ حکومت طلبہ سے بات چیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے وقت طے کیا جانا چاہیے، تاہم اس عمل میں سیاسی افراد کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق صرف وہی طلبہ مذاکرات میں شریک ہوں جو اس وقت احتجاج کر رہے ہیں، تاکہ مسائل پر براہ راست اور مؤثر گفتگو ممکن ہو سکے۔
