اروناچل پردیش میں موسلا دھار بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی، 12 اضلاع کا رابطہ منقطع، فضائیہ نے پھنسے افراد کو بچایا
اروناچل میں مسلسل موسلا دھار بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 12 اضلاع بری طرح متاثر ہیں۔ متعدد سڑکیں اور پل تباہ ہو گئے جبکہ ہندوستانی فضائیہ نے دریا کے بیچ پھنسے 4 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا

اروناچل پردیش میں مسلسل مانسونی بارش نے شدید تباہی مچا دی ہے، جس کے باعث سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ ریاست کے کم از کم 12 اضلاع میں سڑکوں اور پلوں کے متاثر ہونے سے آمد و رفت کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے، جبکہ کئی علاقے ایک دوسرے سے کٹ گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بچاؤ کی کارروائیاں پیر کے روز بھی جاری رہیں۔
لوئر دیبانگ ویلی ضلع کے ڈمبک علاقے میں سیسری ندی کے درمیان ایک جزیرے پر پھنسے چار افراد کو ہندوستانی فضائیہ کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحفاظت نکال لیا گیا۔ مسلسل بارش کے باعث روئنگ-انینی شاہراہ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ اچانک آنے والے سیلاب نے متعدد مقامات پر سڑکیں اور پل بہا دیے ہیں۔
انجو ضلع میں اتوار کی رات والونگ جانے والی شاہراہ پر سرتی گاؤں کے قریب ایک بھاری چٹان شاہراہ کی تعمیر میں مصروف مشین پر آ گری، جس کے نتیجے میں مشین آپریٹر کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خراب موسم، حدِ نگاہ میں کمی اور مزید چٹانیں گرنے کے خطرے کے باعث رات بھر امدادی کارروائیاں معطل رہیں، تاہم پیر کی صبح دوبارہ شروع کر دی گئیں۔ والونگ چوکی اور ہوائی پولیس تھانے کی ٹیمیں بھی امدادی کارروائیوں میں شریک ہیں، جبکہ ملبہ ہٹانے تک متاثرہ شاہراہ کو بند رکھا گیا ہے۔
ایسٹ سیانگ ضلع میں مسلسل بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ہے۔ ضلع کی 11 اہم سڑکوں میں سے صرف دو کو ہی دوبارہ ٹریفک کے لیے کھولا جا سکا ہے، جبکہ باقی نو سڑکیں اب بھی بند ہیں یا سفر کے لیے غیر محفوظ قرار دی گئی ہیں۔
لوئر سیانگ ضلع کے سیجی علاقے میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سیجی ندی کا بہاؤ رک گیا، جس سے اوپری علاقوں میں پانی جمع ہونے لگا۔ ضلعی انتظامیہ نے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو ممکنہ خطرے سے خبردار کرتے ہوئے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی۔ بعد ازاں پانی کی سطح کم ہونے پر پیر کی صبح ندی کا بہاؤ معمول پر آ گیا۔
کیئی پنیور ضلع میں گزشتہ بدھ کو اچانک آنے والے سیلاب کے بعد لاپتا ہونے والے دو افراد کی تلاش چھٹے روز بھی جاری رہی۔ اتوار کو پڑوسی پاپم پارے ضلع کے ہوا کیمپ کے قریب ایک لاش ملنے کے بعد اس سانحے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔ اس سے قبل ایک خاتون کی لاش بدھ اور دوسری خاتون کی لاش ہفتہ کے روز برآمد ہوئی تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اچانک آنے والے سیلاب نے پوسا میں واقع این ای پی سی او کالونی میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جہاں متعدد مکانات اور سڑکیں متاثر ہوئیں جبکہ کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی۔ حکام کے مطابق کیئی پنیور، پاپم پارے، کرا دادی، کورونگ کومے، لوئر سبانسری، کاملے، اپر سبانسری، ایسٹ سیانگ، لیپاراڈا، لوئر سیانگ، لوئر دیبانگ ویلی اور انجو اضلاع اس قدرتی آفت سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
محکمۂ موسمیات نے ایسٹ سیانگ، لیپاراڈا، لوئر سیانگ، لوئر سبانسری، پاپم پارے اور آس پاس کے اضلاع میں مزید موسلا دھار بارش، گرج چمک اور آندھی کی پیش گوئی کی ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے عوام سے احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
