ایکسائز کیس میں سی بی آئی کی اپیل پر سماعت، دہلی ہائی کورٹ کا کیجریوال اور سسودیا سمیت 23 کو نوٹس
ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو منی لانڈرنگ معاملے سے متعلق کیس کی سماعت سے روکنے کے ساتھ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی پربھی روک لگائی ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 16 مارچ کو ہوگی۔

دہلی ہائی کورٹ میں دہلی شراب پالیسی گھپلا معاملے میں آج اہم سماعت ہوئی۔ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے راؤز ایونیو کورٹ کے اس فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے جس نے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے قومی کنوینراور سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، سابق نائب وزیراعلی منیش سسودیا اور دہلی کی ایکسائز پالیسی سے متعلق بدعنوانی کے معاملے میں 23 دیگر ملزمین کو بری کر دیا تھا۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سی بی آئی کی طرف سے دلیل دی۔
اس دوران دہلی ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو منی لانڈرنگ معاملے سے متعلق کیس کی سماعت سے روک دیا ہے۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی کے بیانات پر بھی روک لگائی ہے۔ اس معاملے میں تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے گئے۔ آج کی سماعت کے دوران کیجریوال، منیش سسودیا یا کسی دوسرے ملزم کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا۔ معاملے میں اگلی سماعت 16 مارچ کو ہوگی۔
ایس جی تشار مہتا نے ہائی کورٹ میں کہا کہ یہ معاملہ خالصتاً بدعنوانی کا ہے اور ملزمین کے ذریعہ کل 170 فون تباہ کئے گئے ہیں۔ کورنا وبا کے دوران جب پورا ملک لاک ڈاؤن میں تھا اور سفر پر مکمل پابندی تھی، اس وقت رشوت لینے اوردینے کے لیے پرائیویٹ جیٹ تک کا استعمال کیا گیا۔ ٹرائل کورٹ کے حکم میں منظوری دینے والے دنیش اروڑہ کے بیانات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا۔ دنیش اروڑہ اس کیس میں کلیدی گواہ ہیں اور انہوں نے بتایا کہ میٹنگوں میں کیا ہوا تھا۔ دنیش اروڑہ کے بیانات کو الزامات طے کرنے کے مرحلے پر قبول کیا جانا چاہیے۔
سی بی آئی نے اپنی 974 صفحات کی عرضی میں نچلی عدالت کے فیصلے کو چونکانے والا اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ ٹرائل کورٹ نے اہم شواہد کو نظر انداز کیا اور تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقائق پر صحیح طریقے سے غور نہیں کیا۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایکسائز پالیسی کے ذریعے کچھ نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی سازش کا واضح معاملہ تھا لیکن نچلی عدالت نے اسے نظر انداز کر دیا۔
یہ کیس 2021-22 کی دہلی ایکسائز پالیسی سے متعلق ہے، جسے عام آدمی پارٹی حکومت نے نافذ کیا تھا لیکن بدعنوانی، رشوت خوری اور کارٹیلائزیشن کے الزامات کے درمیان جولائی 2022 میں اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ سی بی آئی نے الزام لگایا تھا کہ یہ پالیسی جان بوجھ کر شراب کی تجارت میں کچھ لوگوں اجارہ داری ملی اور کروڑوں روپے کی رشوت کا تبادلہ کیا گیا۔ 27 فروری 2026 کو خصوصی جج جتیندر سنگھ کی عدالت نے 598 صفحات کے حکم میں تمام 23 ملزمین کو بری کر دیا تھا۔
اس سلسلے میں عدالت کا کہنا تھا کہ سی بی آئی کا معاملہ پہلے سے منصوبہ بند اور من گھڑنت ہے۔ صرف بیانات پر کیس بنایا گیا ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسر کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری کا بھی حکم دیا۔ سی بی آئی کی درخواست پر آج( 9 مارچ) کو دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ یہ معاملہ ہائی کورٹ کی جسٹس سورن کانتا شرما کی سنگل بنچ کے سامنے درج ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔