ہاتھرس معاملہ: عصمت دری و قتل کے قصورواروں کے لئے فوری سزا کا نظم کیا جائے، ڈاکٹر انصاری

ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت میں بہن بیٹیوں کی آبرو محفوظ نہیں ہے اور صوبہ خواتین و بیٹیوں کے ساتھ ہو رہی ناانصافی اور ظلم ستم کا گڑھ بن گیا ہے، مجرم بے خوف ہوکر جرائم کو انجام دے رہے ہیں۔

ہاتھرس عصمت دری معاملہ / تصویر یو این آئی
ہاتھرس عصمت دری معاملہ / تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

پرتاپ گڑھ: پیس پارٹی کے قومی نائب صدر ڈاکٹر عبدالرشید انصاری نے کہا ہے کہ عصمت دری کے مجرموں کے لئے فوری طور پر سزا کا نظم کیا جانا چاہیے۔ اپنے جاری کردہ پریس بیان میں ڈاکٹر انصاری نے کہا، ریاست میں نظم نسق کے حالات مزید ابتر ہونے کے سبب آج بہن بیٹیوں کی آبرو محفوظ نہیں رہ گئی ہے۔ ہاتھرس میں جس طریقے سے مظلوم دلت لڑکی کے ساتھ اجتمائی عصمت دری کر بہیمانہ طریقے سے موت کے گھاٹ اتارا گیا یہ ملک کے لیے بہتر نہیں ہے۔

ڈاکٹر انصاری نے ہاتھرس عصمت دری سانحہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہاتھرس کی دلت سماج کی بیٹی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے بعد جس بہیمانہ طریقے سے زبان کاٹ کر ہڈّی توڑی گئی یہ کوئی انسان نہیں بلکہ حیوان ہی انجام دے سکتا ہے، ایسے حیوانوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔


انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت میں بہن بیٹیوں کی آبرو محفوظ نہیں ہے اور صوبہ خواتین و بیٹیوں کے ساتھ ہو رہی ناانصافی اور ظلم ستم کا گڑھ بن گیا ہے۔ مجرم بے خوف ہوکر جرائم کو انجام دے رہے ہیں، صوبائی حکومت جرائم پر قابو پانے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔

انہوں نے حکومت سے بہن بیٹیوں کی حفاظت کے لئے فوری طور پر مقدمات کا تصفیہ یقینی بنائے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جس سے مجرموں کو جلد سے جلد سزا مل سکے اور متاثرہ کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپیہ معاوضہ و تحفظ اور قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔