سودا بدلنے کی ہمیں خبر ہی نہیں دی مودی حکومت نے : ایچ اے ایل چئیرمین

مودی حکومت نے یو پی اے حکومت کے فیصلہ کو بدلتے ہوئے فرانس حکومت سے رافیل کا نیا سودا کیا جس میں ایچ اے ایل کو باہر کر دیا اور اس نئے بدلاؤ کے بارے میں ایچ اے ایل کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
i

مودی حکومت نے سال 2105 میں فرانس حکومت کے ساتھ رافیل لڑاکوں جہاز کا سودا کیا تھا جس میں 125 کے بجائے صرف 36 رافیل جہاز وں خرید نے کا سودا کیا گیا اور طے ہوا کہ یہ سب جہاز فرانس میں تیار کر کے ہندوستان لائے جائیں گے اور اس کی تخمینہ لاگت 54 ارب ڈالر طے ہوئی ۔

اس میں بڑی بات یہ ہے کہ حکومت کی ایرو اسپیس کمپنی ہندوستان ایرونوٹکس لمیٹیڈ (ایچ اے ایل) کو یہ خبر نہیں تھی کہ گزشتہ رافیل سودے کو بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت رد کر چکی ہے اور نیا رافیل سودا کر چکی ہے ۔ کمپنی کے اعلی افسر نے جمعہ کو یہ اطلاع دی ۔ ایچ اے ایل کے چئیرمین آر مادھون نے بتایا ’’ ہمیں سابقہ سودے کو رد کئے جانے کی اطلاع نہیں تھی ۔ ہم رافیل پر اپنی رائے نہیں دینا چاہتے کیونکہ اب ہم اس سودے کا حصہ نہیں ہیں ‘‘۔

کانگریس کی قیادت والی گزشتہ یو پی اے حکومت نے فرانس کی جہاز بنانے والی کمپنی دسالٹ ایویشن کے ساتھ 125 رافیل لڑاکو جہاز کا سودا کیا تھا جس میں سے 108 جہاز کو ایچ اے ایل کے ذریعہ تیار کیا جانا تھا اور 18 جہازوں کو فرانس میں تیار کر کے ہندوستان لایا جانا تھا۔ یہ جہاز انڈین ایئر فورس کے لئے خریدے گئے تھے ۔

نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے سال 2015 میں فرانس کی حکومت کے ساتھ نیا سودا کیا جس میں 125 جہازو کی بجائے صرف 36 رافیل جہازوں کو خریدا گیا اور ان سب کو فرانس میں ہی تیار کر کے ہندوستان لایا جائے گا اور اس کی تخمینہ لاگت 54 ارب ڈالر ہے۔

مادھون نے بتایا ’’یہ سودا حکومت کے ذریعہ سیدھا کیا گیا ہے اس لئے ہم رافیل جہازوں کی قیمت یا پالیسی میں تبدیلی پر اپنی کوئی رائے نہیں دے سکتے‘‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔