گجرات فسادات: نریندر مودی کو کلین چٹ دینے کے خلاف ذکیہ جعفری کی عرضی سپریم کورٹ سے خارج

فسادات کی تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی 2002 میں قائم کی گئی تھی، جس نے اپنی رپورٹ میں اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی سمیت 64 لوگوں کو کلین چٹ دے دی تھی، اس کے خلاف ذکیہ جعفری سپریم کورٹ گئی تھیں

ذکیہ جعفری، تصویر آئی اے این ایس
ذکیہ جعفری، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2002 کے گجرات فسادات میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو کلین چٹ دینے والی ایس آئی ٹی رپورٹ کے خلاف دائر کی گئی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف یہ عرضی ذکیہ جعفری نے دائر کی تھی۔ ان فسادات میں ذکیہ جعفری کے شوہر احسان جعفری کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا۔

ذکیہ کے شوہر اور کانگریس لیڈر احسان جعفری کو 28 فروری 2002 کو احمد آباد کی گلبرگ سوسائٹی میں تشدد کے دوران قتل کیا گیا تھا۔ ذکیہ جعفری نے ایس آئی ٹی کی تفتیش پر سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ تفتیشی ٹیم نے طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔

سابقہ سماعت کے دوران ذکیہ جعفری کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل کپل سبل نے کہا تھا کہ معاملہ میں ایس آئی ٹی نے سی ڈی آر کی جانچ نہیں کی، گواہان سے بات نہیں کی، فون کی جانچ نہیں کی گئی، تو آخر کس بنیاد پر حتمی رپورٹ داخل کر دی گئی! انہوں نے مزید کہا کہ گلبرگہ سوسائٹی کے واقعہ میں دھماکہ خیز مادہ لانے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اگر ایس آئی ٹی گلبرگہ معاملہ کو دیکھ رہی تھی تو وہ تمام معاملات کی تفتیش کیوں کر رہی تھی۔


وہیں ایس آئی ٹی کی جانب سے پیش وکیل مکل روہتگی نے عرضی گزاروں کی جانب سے دی گئی دلیلوں کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں کی گئی شکایت پر جانچ میں ایسا کچھ نہیں ملا جس کی بنیاد پر اس معاملہ کو آگے بڑھایا جائے، جس کے بعد ایس آئی ٹی نے معاملہ میں حتمی رپورٹ داخل کر دی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔