آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے بہ حفاظت ہندوستان کی طرف بڑھا ’گرین سانوی‘، جہاز میں موجود ہے 47 ہزار ٹن ایل پی جی
ہندوستان کا ساتواں ایل پی جی ٹینکر دنیا کے سب سے خطرناک ہو چکے سمندری راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز کو بہ حفاظت پار کرتے ہوئے ہندوستانی ساحل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری شدید جنگ کی چنگاری نے پوری دنیا کو بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ خصوصاً ایندھن کی سپلائی رخنہ انداز ہونے سے کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث سب سے زیادہ پریشانی خام تیل اور گھریلو گیس کی فراہمی کو لے کر ہے۔ تاہم اس عالمی بحران کے درمیان ہندوستان کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ کچھ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ 3 اپریل کی دیر شب ہندوستان کا ساتواں ایل پی جی ٹینکر ’گرین سانوی‘ دنیا کے خطرناک ترین سمندری راستوں میں شمار ہونے والے آبنائے ہرمز کو بحفاظت عبور کرتے ہوئے ہندوستان کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھ گیا ہے۔
28 فروری کو مشرق وسطیٰ میں تنازعہ شروع ہونے کے بعد حالات تیزی سے بگڑتے چلے گئے اور ہنوز کشیدگی بڑھی ہوئی ہے۔ جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد ایران نے نہایت اہم اسٹریٹجک راستہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے لیے اس راستے سے گزرنا تقریباً ناممکن ہو گیا۔ کئی جہاز حملوں کا نشانہ بھی بنے اور دنیا بھر کی شپنگ کمپنیاں اس راستے سے گریز کرنے لگیں۔ ایسے خوفناک ماحول میں ہندوستان نے سفارتی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایرانی حکام سے بات چیت کی، جو کامیاب رہی۔ ایران نے ہندوستان کے لیے نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے ہندوستانی جہازوں کو اس راستے کے استعمال کی خصوصی اجازت دے دی۔
بہرحال، ’گرین سانوی‘ ایک وسیع گیس بردار جہاز (وی ایل جی سی) ہے، جو 6 اپریل کو ہندوستان پہنچ سکتا ہے۔ جاپان کی عالمی شپنگ کمپنی مِتسوئی او ایس کے لائنز کی ہندوستانی شاخ ایم او ایل انڈیا کا یہ جہاز تقریباً 50,000 ٹن گیس کی گنجائش رکھتا ہے اور اس مرتبہ تقریباً 47,000 ٹن ایل پی جی لے کر محفوظ طریقے سے ہندوستان پہنچ رہا ہے۔ اس سے قبل شیوالک، نندا دیوی اور پائن گیس سمیت 6 دیگر جہاز بھی اسی خطرناک راستے سے ایندھن لے کر ہندوستان آ چکے ہیں۔ حالانکہ بحران مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایل پی جی ٹینکر ’گرین آشا‘ اور ’جگ وکرم‘ سمیت تقریباً 17 ہندوستانی جہاز اب بھی آبنائے ہرمز کے قریب سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں، جن کی جلد بحفاظت واپسی کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتہ ایرانی انتظامیہ نے اپنی پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے علاوہ دیگر ممالک آبنائے ہرمز کا استعمال کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ براہ راست رابطہ رکھیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سرکاری ٹی وی کے مطابق چین، ہندوستان، روس، عراق اور پاکستان جیسے ممالک (جن کے ایران کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں) کے جہازوں کو اس راستے سے بلا رکاوٹ گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔