گریٹر نوئیڈا: کھلے گڑھے میں گرنے سے 6 سالہ بچے کی موت، ٹھیکیدار سمیت 3 افراد پر ایف آئی آر درج
حادثے کے بعد گریٹر نوئیڈا اتھارٹی نے متعلقہ ٹھیکیدار منوج جین، سپروائزر جانی اور ٹیکنیکل سپروائزر آکاش کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے، اور ان کی خدمات ختم کر دی ہیں۔

گریٹر نوئیڈا کے نالج پارک کوتوالی علاقے میں واقع کلا دھام سوسائٹی کے قریب ہفتہ کی دیر شام ایک کھلے گڑھے میں گرنے سے 6 سالہ معصوم بچے کی موت ہو گئی۔ اس افسوسناک حادثے کے بعد گریٹر نوئیڈا اتھارٹی نے متعلقہ ٹھیکیدار منوج جین، سپروائزر جانی اور ٹیکنیکل سپروائزر آکاش کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے، اور ان کی خدمات ختم کر دی ہیں۔ اتھارٹی نے ابتدائی تحقیقات میں ٹھیکیدار کی غفلت کو حادثے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔ اطلاع کے مطابق مہلوک بچے کی شناخت کیندریہ ودیالیہ کے نائب پرنسپل سیوان یادو کے 6 سالہ بیٹے کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بچہ دیگر بچوں کے ساتھ کلا دھام سوسائٹی کے قریب کھیل رہا تھا۔ اسی دوران وہ بورنگ کے لیے کھودے گئے پانی سے بھرے گہرے گڑھے کے قریب پہنچ گیا اور اچانک اس میں گر گیا۔
بچوں کے شور مچانے پر مقامی لوگ موقع پر پہنچے اور کافی کوشش کے بعد بچے کو باہر نکالا۔ بچے کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے بچے کو مردہ قرار دے دیا۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ یہ گڑھا کئی روز قبل ٹیوب ویل کے لیے کھودا گیا تھا، لیکن اس کے اطراف میں نہ تو بریکیڈنگ کی گئی تھی اور نہ ہی کوئی انتباہی بورڈ نصب کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مناسب حفاظتی انتظامات کیے گئے ہوتے تو اس حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔ گریٹر نوئیڈا اتھارٹی کے جنرل منیجر اے کے سنگھ نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا، اور خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کو بتایا کہ سوسائٹی میں پینے کے پانی کی فراہمی کے مسئلے کے حل کے لیے ٹیوب ویل لگانے کی منظوری دی گئی تھی، لیکن بورویل کو مقررہ مقام کے بجائے اتھارٹی کو اطلاع دیے بغیر دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا، جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹھیکیدار کی غفلت سامنے آنے کے بعد متعلقہ تینوں افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور ان کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ ادھر مہلوک بچے کے پڑوسی کالی چرن گپتا نے اتھارٹی کے کام کرنے کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی کام تو شروع کر دیے جاتے ہیں، لیکن حفاظتی اصولوں پر عمل نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ علاقے میں پہلے بھی کھلے گڑھوں کے بارے میں شکایات کی گئی تھیں، مگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ کوتوالی انچارج ونود کمار نے بتایا کہ اہلِ خانہ کی تحریری شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پورے معاملے کی تفتیش جاری ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
