’حکومت ذمہ داری لے‘، خواتین کے تحفظ کو لے کر دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کا احتجاج تیز

ایک طالبہ نے کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ حکومت عصمت دری کے تمام واقعات کی ذمہ داری لے۔ ہم باہر کیوں نہیں جا سکتے؟ محفوظ طریقے سے باہر گھومنا ہمارا حق ہے اور ہم اسی حق کا مطالبہ کرنے آئے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>خواتین کے تحفظ کو لے کر دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کا احتجاج، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

قومی راجدھانی دہلی میں خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کو لے کر دہلی یونیورسٹی (ڈی یو) کے طلبہ نے اپنا احتجاج تیز کر دیا ہے۔ طلبہ پوسٹر اور تختیاں لے کر سڑکوں پر اتر رہے ہیں۔ وہ خواتین پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی مخالفت کر رہے ہیں اور جنسی تشدد کے واقعات پر جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان احتجاجی مظاہروں میں دہلی یونیورسٹی کے کئی کالجوں کے طلبہ بڑی تعداد میں شامل ہوئے ہیں۔ ان میں شیاما پرساد مکھرجی کالج فار ویمن، مرانڈا ہاؤس، لیڈی شری رام کالج (ایل ایس آر)، کملہ نہرو کالج اور گارگی کالج کے طلبہ شامل ہیں۔ احتجاج کے دوران طلبہ کے مختلف ورڈ پلے والے نعروں نے بھی لوگوں کی توجہ کھینچی ہے۔

واضح رہے کہ یہ احتجاج رواں ماہ کالکاجی کے آستھا کنج پارک کے قریب 17 سالہ لڑکی کے ساتھ ہوئے اجتماعی عصمت دری کے واقعے کے بعد تیز ہوا ہے۔ اس واقعہ نے دہلی میں خواتین کی سیکورٹی کو لے کر طلبہ کی پرانی تشویش اور ناراضگی کو پھر بڑھا دیا ہے۔ خاص طور پر اس بات پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ خواتین بغیر خوف کے شہر میں کہیں بھی آمد و رفت کیوں نہیں کر سکتیں۔ خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق طلبہ نے اپنا غصہ ظاہر کرنے اور موجودہ حالات پر سوال اٹھانے کے لیے مزاح، طنز اور دہلی میں عام طور پر استعمال ہونے والے الفاظ کا بھی سہارا لیا ہے۔ ایسا ہی ایک نعرہ زیر بحث ہے ’1 کچوری، 2 سموسے، ان مردوں کا کیا بھروسا۔‘


مظاہرین نے احتجاج کے دوران کئی طرح کے پوسٹر اور تختیاں بھی دکھائیں۔ ان پر طنزیہ اور تخلیقی پیغامات سے لے کر براہ راست اور تیکھے پیغامات تک لکھے گئے ہیں۔ ان میں ’پدرشاہی ختم کرو‘ جیسے پیغامات شامل ہیں۔ ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے ایک طالبہ نے کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ حکومت عصمت دری کے تمام واقعات کی ذمہ داری لے۔ ہم باہر کیوں نہیں جا سکتے؟ محفوظ طریقے سے باہر گھومنا ہمارا حق ہے اور ہم اسی حق کا مطالبہ کرنے یہاں آئے ہیں۔‘‘

ایک دیگر احتجاجی نے کہا کہ ’’ہم اپنی سیکورٹی کے لیے سڑکوں پر اترے ہیں۔ اگر یہاں لڑکیاں محفوظ ہوتیں تو کالکاجی میں اجتماعی عصمت دری کا واقعہ نہیں ہوتا۔ ہم کب تک گھر کے اندر رہیں گے؟ ہمیں اپنے گھروں تک ہی محدود کیوں رہنا چاہیے؟‘‘‘ ایک اور طالبہ نے الزام عائد کیا کہ ’’حکومت نے خواتین کی سیکورٹی کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔ ہم آزادی سے چلنا پھرنا چاہتے ہیں۔ ہم عصمت دری کے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی چاہتے ہیں۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ شروع میں خواتین کے کالجوں میں الگ الگ احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے، لیکن بہت جلد یہ دہلی یونیورسٹی میں طلبہ کی ایک بڑی تحریک میں تبدیل ہو گیا۔ 28 ستمبر کو سینکڑوں طلبہ فیکلٹی آف آرٹس میں جمع ہوئے۔ اس کے بعد ہزاروں طلبہ نے نارتھ کیمپس میں مارچ نکالا۔ حالیہ برسوں میں دہلی یونیورسٹی میں خواتین کی سیکورٹی کے معاملے پر یہ طلبہ کے بڑے احتجاجی مظاہروں میں سے ایک بن کر سامنے آیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔