چلتے ای رکشہ کے اچانک بند ہونے کا معاملہ، حکومت نے چینی ایپ پر لگائی روک

ای رکشوں میں استعمال ہونے والے سستے چینی بیٹری مینجمنٹ سسٹم کی سکیورٹی خامیوں کے باعث ایک موبائل ایپ کے ذریعے گاڑی بند کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا، جس کے بعد حکومت نے متعلقہ ایپ کو ہٹانے کا حکم دیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

حکومت ہند نے ایسے موبائل ایپس کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے جن کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ان کے ذریعے بعض ای رکشوں کو دور سے بند کیا جا سکتا تھا۔ ’دی ہندی‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق متعلقہ چینی ایپ کو گوگل پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹور سے ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ حکام نے اس معاملے کو سائبر سکیورٹی اور عوامی تحفظ سے جوڑتے ہوئے فوری اقدامات کیے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض ای رکشوں کو ایک مخصوص موبائل ایپ کے ذریعے اچانک بند کیا جا رہا ہے۔ ان ویڈیوز کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اگر ایسے نظام کا غلط استعمال کیا جائے تو سڑک پر چلتی گاڑی کو روک کر نہ صرف مسافروں بلکہ دیگر راہگیروں کی جان بھی خطرے میں ڈالی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بیشتر ای رکشوں میں لیتھیم آئن بیٹری کے ساتھ بیٹری مینجمنٹ سسٹم نصب ہوتا ہے، جس کا مقصد بیٹری کی کارکردگی، درجہ حرارت، وولٹیج، کرنٹ اور چارج کی نگرانی کرنا ہوتا ہے۔ یہ نظام اکثر بلوٹوتھ کے ذریعے موبائل فون سے جڑ جاتا ہے تاکہ ڈرائیور بیٹری کی معلومات دیکھ سکے۔


مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کم قیمت والے بعض چینی بیٹری مینجمنٹ سسٹمز میں مناسب حفاظتی انتظامات موجود نہیں ہوتے۔ اگر ایسے نظام میں بلوٹوتھ رابطے کو محفوظ نہ بنایا گیا ہو تو کوئی دوسرا شخص بھی مخصوص موبائل ایپ استعمال کرکے چند میٹر کے فاصلے سے اس سسٹم تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اگر رسائی مل جائے تو وہ بیٹری کے ڈسچارج سوئچ کو بند کر کے موٹر تک بجلی کی فراہمی روک سکتا ہے، جس سے ای رکشہ چلنا بند ہو جاتا ہے۔

حکومت نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ایپس کو ایپ اسٹورز سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دو ایسی ایپس حکومت کی نظر میں آئی تھیں جنہیں بعد میں ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایپ اسٹور چلانے والی کمپنیوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ایسی ایپس دستیاب نہ ہوں جو عوامی سلامتی یا سائبر سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ای رکشہ مالکان کو صرف مستند کمپنیوں کے بیٹری مینجمنٹ سسٹمز استعمال کرنے چاہئیں اور غیر ضروری بلوٹوتھ رابطہ بند رکھنا چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو سسٹم کا سکیورٹی پاسورڈ تبدیل کیا جائے اور صرف سرکاری یا مستند ایپس ہی استعمال کی جائیں۔ کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا اچانک گاڑی بند ہونے کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ کمپنی یا مجاز سروس مرکز سے رابطہ کرنا چاہیے۔ حکومت کی حالیہ کارروائی سے فوری خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم طویل مدت میں محفوظ برقی گاڑیوں کے لیے مضبوط سائبر سکیورٹی نظام اپنانا بھی اتنا ہی ضروری ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔