حکومت مجھے طلبہ کی آواز اٹھانے سے نہیں روک سکتی، پریاگ راج پروگرام کی اجازت منسوخ ہونے پر راہل گاندھی

راہل گاندھی نے پریاگ راج میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کی اجازت منسوخ ہونے پر کہا کہ حکومت طلبہ کی آواز دبا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہے جتنی کوشش کرے، انہیں طلبہ کی آواز اٹھانے سے روک نہیں سکتی

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے پریاگ راج میں اپنے مجوزہ ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کی اجازت منسوخ کیے جانے کے بعد مرکزی حکومت اور اتر پردیش انتظامیہ پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہے جتنی بھی کوشش کر لے، وہ طلبہ کی آواز اٹھانے سے انہیں نہیں روک سکتی۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ الٰہ آباد یونیورسٹی کے طلبہ فیس میں اضافے اور نشستوں میں کٹوتی کے خلاف اپنے مستقبل کی لڑائی لڑ رہے ہیں، لیکن انتظامیہ ان کے مسائل سننے کے بجائے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی پالیسی نوجوانوں کی آواز دبانے پر مبنی ہے۔ سوال پوچھو تو لاٹھی چارج، احتجاج کرو تو مقدمات اور آواز اٹھاؤ تو پیلٹ گن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جب سے انہوں نے طلبہ کے مسائل سننے کے لیے پریاگ راج جانے کا فیصلہ کیا ہے، تب سے انتظامیہ ان کے پروگرام کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ’چھاتروں کی گونج‘ سے بھی خوف زدہ ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا، ’’میں طلبہ کے ساتھ کھڑا ہوں۔ حکومت چاہے کتنی بھی کوشش کر لے، مجھے طلبہ کی آواز بلند کرنے سے نہیں روک سکتی۔‘‘


راہل گاندھی کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب کایستھ پاٹھ شالہ (کے پی) ٹرسٹ نے 8 اگست کو پریاگ راج کے کے پی گراؤنڈ میں منعقد ہونے والے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے لیے دی گئی اجازت واپس لے لی۔ ٹرسٹ کے قائم مقام صدر جتیندر ناتھ چودھری کے مطابق الٰہ آباد ہائی کورٹ نے 14 اگست 2025 کے اپنے حکم میں ہدایت دی تھی کہ کے پی کالج گراؤنڈ کو کھیل اور تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

ٹرسٹ نے یہ بھی کہا کہ حالیہ بارشوں کے باعث گراؤنڈ میں پانی بھر گیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں عوامی اجتماع کا انعقاد محفوظ نہیں ہے۔ ان کے مطابق کانگریس کو دی گئی اجازت ضلعی مجسٹریٹ کی منظوری سے مشروط تھی۔

یہ پروگرام راہل گاندھی کی طلبہ سے پرچہ لیک، فیس میں اضافے، نشستوں میں کمی اور دیگر تعلیمی مسائل پر بات چیت کے لیے طے کیا گیا تھا۔ اس سے قبل اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے پروگرام کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے پریاگ راج کا دورہ کیا تھا۔

اجے رائے نے واضح کیا کہ مقام کی اجازت منسوخ ہونے کے باوجود راہل گاندھی 8 اگست کو پریاگ راج ضرور آئیں گے اور طلبہ سے ملاقات کرکے ان کے مسائل سنیں گے۔ دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے، جہاں کانگریس اسے طلبہ کی آواز دبانے کی کوشش قرار دے رہی ہے، جبکہ مقام فراہم کرنے والے ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ فیصلہ عدالتی حکم اور حفاظتی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔