دہلی میٹرو مسافروں کے لیے خوشخبری، ڈی ایم آر سی کی ’ای-رکشہ سروس‘ جلد شروع ہوگی
ڈی ایم آر سی بہت جلد جدید سہولیات سے مزین ای رکشہ سروس کی شروعات کرنے والی ہے۔ اس کا مقصد میٹرو مسافروں کے لیے آسانی پیدا کرنا اور میٹرو اسٹیشنوں کے باہر آٹو اور ای رکشہ کی بھیڑ کو ختم کرنا ہے۔

دہلی میٹرو میں سفر کرنے والوں کے لیے ڈی ایم آر سی ایک خوشخبری لے کر آ رہی ہے۔ بہت جلد وہ جدید سہولیات سے مزین ’ای رکشہ سروس‘ شروع کرنے والی ہے جو کئی طرح کے مسائل کو ختم کر دے گی۔ دراصل میٹرو اسٹیشنوں کے باہر آٹو اور ای رکشہ کی بہت زیادہ بھیڑ بھاڑ دیکھنے کو ملتی ہے جس کی وجہ سے میٹرو مسافروں کو کئی بار پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے ڈی ایم آر سی نے خود کا ای رکشہ سروس شروع کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ یہ ای رکشہ ہائی ٹیک ہوگا اور اس کا استعمال ایپ بیسڈ کیب کی طرح کیا جا سکے گا۔
مختلف ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق ڈی ایم آر سی کے ذریعہ شروع کی جا رہی اس سروس سے خراب راستوں پر بھی میٹرو مسافروں کو پہنچنے میں آسانی ہوگی۔ خاص بات یہ ہے کہ اس ای رکشہ میں خواتین کی سیکورٹی کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ دراصل ڈی ایم آر سی نے فیصلہ کیا ہے کہ سبھی ای رکشہ کو جی پی ایس سے جوڑا جائے گا۔
اس ای رکشہ سروس کے شروع ہونے سے ان علاقوں کے مسافروں کو کافی فائدہ پہنچے گا جہاں ڈی ایم آر سی کی میٹرو فیڈر بسیں نہیں ہیں۔ میٹرو مسافروں کو بہتر ’لاسٹ مائل کنکٹیویٹی‘ دینے کے لیے ہائی ٹیک ای رکشہ چلانے کے منصوبے پر کام تیزی کے ساتھ شروع کر دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ای رکشہ سروس پرائیویٹ آپریٹرس کے ساتھ معاہدہ کی بنیاد پر شروع ہوگا۔
جہاں تک اس ای رکشہ کی خاصیت کا سوال ہے، اس میں کئی ایسی چیزیں موجود ہوں گی جس کا تصور عام ای رکشہ میں نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق سبھی ای رکشہ کے آگے وِنگ اسکرین ہوگی اور مسافروں کے لیے کیبن بنا ہوگا۔ اس میں 40 کلو وزن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ چار مسافر سوار ہوں گے۔ اچھی بات یہ بھی ہے کہ ای رکشہ کی سہولت تین سے چار کلو میٹر کے دائرے میں دستیاب ہوگی۔ ای رکشہ میں سفر کرنے پر کرایہ کی ادائیگی کے لیے بھی کئی طرح کے متبادل دئیے جائیں گے۔ اس ای رکشہ میں کیب کی طرح ہی ایپ سے ایڈوانس بکنگ اور ای پیمنٹ کی سہولت ہوگی۔
ماڈرن ای رکشہ کے لیے ڈی ایم آر سی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر میٹرو اسٹیشن پر اسٹینڈ بنائے جائیں گے۔ ای رکشہ ڈرائیور کے لیے ایک خاص وردی بھی ہوگی جیسا کہ کیب وغیرہ میں ہوتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان ڈرائیوروں کے پاس لائسنس بھی ہوگا۔ ساتھ ہی ہر ای رکشہ میں فرسٹ ایڈ باکس اور آگ بجھانے والے سامان موجود ہوں گے۔
جہاں تک ای رکشہ کے چلنے کے وقت کا سوال ہے، ڈی ایم آر سی کا کہنا ہے کہ پہلی اور آخری ٹرین کے وقت سے 10 منٹ پہلے ای رکشہ کی بکنگ کی جا سکے گی۔ کرایہ کی ادائیگی کے لیے ڈی ایم آر سی کا اسمارٹ کارڈ بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ ایک اور بات قابل ذکر ہے جو اس ای رکشہ کو خاص بناتا ہے، اور وہ یہ کہ ای رکشہ پر ڈرائیور کا نام، پتہ اور فون نمبر بھی لکھا ہوگا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 20 Jul 2019, 1:10 PM