لوک سبھا میں گورو گوگوئی کا حکومت پر سخت حملہ، خواتین ریزرویشن بل کو حدبندی سے جوڑنے پر سوالات
کانگریس رہنما گورو گوگوئی نے لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسے حدبندی سے جوڑ کر تاخیر پیدا کر رہی ہے اور اصل مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے

لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما اور نائب قائد حزب اختلاف گورو گوگوئی نے آئین کی 131ویں ترمیم کے مجوزہ بل 2026 پر بحث کے دوران حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت خواتین ریزرویشن کی حامی ہے لیکن اس بل کو حدبندی اور مردم شماری کے ساتھ جوڑنے کے طریقہ کار پر انہیں سخت اعتراض ہے۔
گوگوئی نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومت اس معاملے کو تاریخی پیش رفت کے طور پر پیش کر رہی ہے، حالانکہ ماضی میں بھی کئی بار خواتین ریزرویشن کے حوالے سے قوانین لانے کی کوششیں ہو چکی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تین سال قبل بھی اسی طرح کے وعدے کیے گئے تھے کہ مردم شماری اور حدبندی کے فوراً بعد خواتین کو ریزرویشن دیا جائے گا، مگر آج حکومت خود اس عمل میں تاخیر کی بات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہمیشہ سے خواتین کو سیاسی نمائندگی دینے کے حق میں رہی ہے، مگر ان کا مطالبہ ہے کہ اس قانون کو سادہ بنایا جائے تاکہ اس کا نفاذ فوری طور پر ممکن ہو سکے۔ ان کے مطابق موجودہ لوک سبھا کی کل نشستوں یعنی 543 پر ہی خواتین ریزرویشن نافذ کیا جا سکتا ہے لیکن حکومت اسے غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا رہی ہے۔
گوگوئی نے حکومت کے موقف میں تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مردم شماری کا عمل شروع ہو چکا ہے، جبکہ دوسری طرف خود بل میں کہا گیا ہے کہ اس میں کافی وقت لگے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سب کچھ طے ہے تو پھر تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت حقیقت میں خواتین ریزرویشن نافذ کرنے کے بجائے اسے ٹالنا چاہتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین ریزرویشن کو حدبندی سے جوڑنا دراصل ایک سیاسی حکمت عملی ہے تاکہ اس کے ذریعے ملک میں حلقہ بندی کے عمل کو اپنی مرضی کے مطابق انجام دیا جا سکے۔ گوگوئی نے الزام لگایا کہ یہ بل خواتین کے حقوق کے بجائے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
اپنی تقریر میں انہوں نے مردم شماری اور ذات پر مبنی مردم شماری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حکومت اس معاملے میں بھی واضح موقف اختیار نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق اپوزیشن کے دباؤ کے بعد ہی حکومت نے ذات پر مبنی مردم شماری کا ذکر کیا، ورنہ اس سے پہلے اسے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا۔
گوگوئی نے حدبندی کے عمل پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مختلف ریاستوں میں اس کا نفاذ مختلف طریقوں سے کیا گیا، جس سے شفافیت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کہیں دو ہزار گیارہ کی مردم شماری کو بنیاد بنایا گیا تو کہیں دو ہزار ایک کے اعداد و شمار استعمال کیے گئے، جو ایک متضاد طرز عمل کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حدبندی کا اصل مقصد انتظامی سہولت اور بہتر حکمرانی ہونا چاہیے، مگر موجودہ حالات میں اسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات ملک کے وفاقی ڈھانچے کو بھی متاثر کرتے ہیں اور چھوٹی ریاستوں کی نمائندگی کمزور ہو سکتی ہے۔
گوگوئی نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ خواتین ریزرویشن بل کو سادہ شکل میں پیش کرے اور اسے فوری طور پر نافذ کرے، تاکہ خواتین کو حقیقی معنوں میں سیاسی نمائندگی مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس بل کی حمایت کرے گی، بشرطیکہ اسے حدبندی کے پیچیدہ عمل سے الگ رکھا جائے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔