جبراً بنگلہ دیش بھیجنے کے معاملہ میں آسام حکومت کو جھٹکا، ہائی کورٹ کا ممتاز بیگم کے شوہر کو 2 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم
گوہاٹی ہائی کورٹ نے ممتاز بیگم کو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنگلہ دیش بھیجنے کے معاملے میں آسام حکومت کو ان کے شوہر کو 2 لاکھ روپے عبوری معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے

گوہاٹی: گوہاٹی ہائی کورٹ نے آسام حکومت کو بنگالی بولنے والی مسلم خاتون ممتاز بیگم کو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت سے بنگلہ دیش بھیجے جانے کے معاملے میں ان کے شوہر کو 2 لاکھ روپے عبوری معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو یہ رقم 60 دن کے اندر ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔
جسٹس کلیان رائے سرانا اور جسٹس سوسمیتا پھوکن کھونڈ کی بنچ نے یہ حکم ممتاز بیگم کے شوہر مزمل حق کی جانب سے دائر کی گئی اپیل (ہیبیس کورپس) پر سماعت کے دوران دیا۔ مزمل حق آسام کے ناگاؤں ضلع کے جوریا کے رہنے والے ہیں۔
عدالت کے سامنے پیش کیے گئے معاملے کے مطابق، ممتاز بیگم کو 30 مئی کو ایک فارنرز ٹریبونل نے غیر ملکی قرار دے دیا تھا۔ وہ ہائی کورٹ کے ایک سابقہ حکم کے بعد اپنے معاملے پر دوبارہ غور کے لیے ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئی تھیں۔ تاہم ہائی کورٹ نے بعد میں پایا کہ ٹریبونل نے ان کی جانب سے پیش کیے گئے تمام شواہد پر مناسب طور پر غور نہیں کیا۔
فارنرز ٹریبونل کے فیصلے کے بعد ممتاز بیگم کو گرفتار کیا گیا اور بعد میں حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔ 14 جون کو انہیں بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد انہیں سری بھومی ضلع میں واقع ایک بین الاقوامی سرحدی مقام کے ذریعے بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔
خاتون کے شوہر کی جانب سے دائر عرضی میں کہا گیا کہ انہیں یا خاندان کے کسی بالغ فرد کو ممتاز بیگم کو ملک سے باہر بھیجے جانے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ عدالت نے اس پہلو کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا کہ خاتون کو درخواست گزار یا خاندان کے کسی بالغ فرد کو اطلاع دیے بغیر بھارت سے باہر بھیج دیا گیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ موجودہ صورت حال میں عبوری راحت کے طور پر آسام حکومت کو درخواست گزار کو 2 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت دینا مناسب ہوگا۔ بنچ نے واضح کیا کہ درخواست گزار کو سول عدالت سے مزید راحت حاصل کرنے کا حق بھی حاصل رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے جب کسی عدالت نے کسی شخص کو بنگلہ دیش بھیجنے کے عمل میں ملک بدری کے ضوابط کی خلاف ورزی پر کسی ریاستی حکومت پر مالی ذمہ داری عائد کی ہے۔ گوہاٹی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں مرکزی وزارت خارجہ کو بھی فریق بنایا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ وہ حکومت ہند کو بنگلہ دیش میں ممتاز بیگم کا سراغ لگانے اور انہیں واپس ہندوستان لانے کی کوشش کرنے کی ہدایت دے گی۔
عدالت نے ناگاؤں فارنرز ٹریبونل کے اس پورے معاملے میں کردار پر بھی سخت عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ معاملے کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے یہ سوال بھی اہم رہا کہ خاتون کو ہندوستان سے باہر بھیجنے سے قبل قانونی طریقہ کار اور متعلقہ فریقوں کو اطلاع دینے کی ذمہ داری کس طرح پوری کی گئی۔
