راجستھان کے کئی شہروں میں صفائی ملازمین کی ہڑتال، گلیوں اور بازاروں میں کچرے کے ڈھیر
راجستھان میں صفائی ملازمین کی ہڑتال کے سبب جے پور سمیت کئی شہروں میں کچرے کے ڈھیر لگ گئے۔ ملازمین بھرتی، مستقلی، ٹھیکہ نظام کے خاتمے اور سابقہ معاہدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہے ہیں

راجستھان میں والمیکی صفائی ملازمین کی ہڑتال پیر کو تیسرے روز بھی جاری رہی، جس کے باعث ریاست کے متعدد شہروں، خصوصاً راجدھانی جے پور میں صفائی کا نظام بری طرح متاثر ہو گیا۔ شہر کے مختلف علاقوں، بازاروں اور رہائشی محلوں میں کچرے کے ڈھیر لگ گئے، جبکہ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ہڑتال کرنے والے صفائی ملازمین نے بھرتی کے طریقۂ کار، ملازمت کی شرائط اور سابقہ معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف کام بند کر رکھا ہے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فصیل بند شہر کی جانب کچرا لے جانے والی ایک ٹریکٹر ٹرالی کو روک کر بڑی چوپڑ پر کچرا پھیلا دیا۔ اسی طرح چھوٹی چوپڑ، جوہری بازار اور راجا پارک سمیت دیگر علاقوں سے بھی ایسے واقعات کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
مشترکہ والمیکی و صفائی مزدور یونین کے صدر نند کشور ڈنڈوریا نے کہا کہ جب تک حکومت اپنے سابقہ وعدوں اور معاہدوں پر مکمل عمل درآمد نہیں کرتی، ہڑتال جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مختلف مواقع پر صفائی ملازمین سے معاہدے کیے، لیکن عملی اقدامات میں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے، جس کے باعث ملازمین میں شدید ناراضی پائی جاتی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ صفائی ملازمین کی بھرتی میں روایتی طور پر یہ کام انجام دینے والے والمیکی خاندانوں کو ترجیح دی جائے، ٹھیکہ داری نظام ختم کیا جائے اور ملازمین کو دو برس بعد مستقل کیا جائے۔ ان کے مطابق احتجاج کے دوران یقین دہانیاں تو کرا دی جاتی ہیں، لیکن بعد میں ضابطوں اور قانونی کارروائیوں کا حوالہ دے کر فیصلوں کو مؤخر کر دیا جاتا ہے۔
ایک اور صفائی ملازم نے بتایا کہ تنظیم نے حکومت کو پہلے ایک ماہ، پھر سات دن اور آخر میں چوبیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیا، مگر کوئی مؤثر کارروائی نہ ہونے پر کام بند کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ یونین کا کہنا ہے کہ صفائی ملازمین کو بروقت تنخواہیں اور دیگر واجبات بھی بلدیاتی فنڈ سے یقینی بنائے جائیں۔
دوسری جانب صفائی ملازمین کے ایک طبقے نے ہڑتال سے اختلاف بھی کیا ہے۔ صفائی ملازم رہنما پون چودھری نے کہا کہ وہ کام بند کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور شہر کی صفائی برقرار رکھنے کے لیے بلدیہ کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بھی چاہیے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے بھرتی کا عمل بلاوجہ تاخیر کے بغیر مکمل کرے۔
ادھر بلدیاتی حکام کا کہنا ہے کہ تعطل ختم کرنے کے لیے ملازم تنظیموں سے مسلسل بات چیت جاری ہے۔ مقامی بلدیاتی اداروں کے ڈائریکٹر جوئیکر پرتیک چندر شیکھر کے مطابق نمائندوں کے ساتھ کئی دور کی بات چیت ہو چکی ہے اور مذاکرات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ صفائی ملازمین کی بھرتی کا عمل پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے اور اسے جلد حتمی شکل دی جائے گی۔
ہڑتال کے باعث جے پور سمیت کئی شہروں میں صفائی کا بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ شہریوں نے حکومت اور ملازم تنظیموں سے جلد از جلد مسئلے کا حل نکالنے کی اپیل کی ہے۔
