تیل کی بڑھتی قیمتوں پر جی7 کا فیصلہ، 4 ماہ میں 10 کروڑ بیرل تیل اور ڈیزل جاری کرنے پر اتفاق

تیل اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے درمیان جی7 ممالک نے آئی ای اے کے ذریعے چار ماہ میں 10 کروڑ بیرل تیل اور ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے، پہلے 20 دن میں بڑی مقدار جاری ہوگی

<div class="paragraphs"><p>تصویر یو این آئی</p></div>
i

پیرس: عالمی منڈی میں تیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی کے درمیان جی7 ممالک نے اپنے ہنگامی توانائی ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل اور ڈیزل جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ جی7 کے رہنماؤں نے جمعہ کو ایک ورچوئل اجلاس کے بعد کہا کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ذریعے مجموعی طور پر 10 کروڑ بیرل تیل اور دیگر پٹرولیم ذخائر چار ماہ کے دوران جاری کیے جائیں گے۔

جی7 کے مشترکہ بیان کے مطابق ذخائر جاری کرنے کا عمل فوری طور پر شروع ہوگا۔ منصوبے کے تحت ڈیزل کی ایک بڑی مقدار پہلے 20 دن کے دوران مارکیٹ میں لائی جائے گی، تاکہ ایندھن کی سپلائی پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ اس پورے عمل کی نگرانی اور تال میل آئی ای اے کرے گی۔

جی7 ممالک نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنی ریفائنریوں میں دیکھ بھال کے شیڈول کو مربوط کریں گے، تاکہ ایک ہی وقت میں متعدد ریفائنریوں کے بند ہونے سے پیداوار متاثر نہ ہو۔ جہاں ممکن ہوگا، ریفائنریوں کی پیداوار بڑھانے اور خاص طور پر ڈیزل کی سپلائی میں اضافہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔


یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ڈیزل کی سپلائی شدید دباؤ میں ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ستمبر کے جائزے کے مطابق ڈیزل اور گیس آئل کی قیمتوں میں جنگ سے پہلے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ عالمی تیل کے ذخائر میں بھی مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔

اجلاس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر اپنے ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ امریکی حکومت نے اس سے پہلے امریکی ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے کے امکان پر بھی غور کیا تھا۔ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ یورپ اپنے ذخیرہ شدہ ڈیزل کی بڑی مقدار جاری کرنے پر رضامند ہوگیا ہے۔

برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ جمعہ کو ملک میں ڈیزل کی اوسط قیمت پہلی بار 2 پاؤنڈ فی لیٹر سے تجاوز کر گئی، جو تقریباً 254 ہندوستانی روپے کے برابر ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے یورپ سمیت کئی خطوں میں مہنگائی اور نقل و حمل کے اخراجات سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔

موجودہ بحران کے پس منظر میں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل و دیگر توانائی مصنوعات کی نقل و حرکت میں رکاوٹ کو اہم عوامل میں شمار کیا جا رہا ہے۔ جی7 نے اپنے بیان میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے حقوق اور آزادی کی مکمل بحالی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔


جی7 نے توانائی کی قیمتوں پر دباؤ کم کرنے کے ساتھ ساتھ رکن ممالک کے درمیان توانائی اور توانائی مصنوعات کی برآمدات پر پابندیاں عائد نہ کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔ گروپ نے کہا ہے کہ آئی ای اے ان اقدامات کے اثرات کا جائزہ لے گی اور 20 دن کے اندر آئندہ اقدامات سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔

تازہ فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں عارضی کمی بھی دیکھی گئی، تاہم ماہرین کے مطابق ذخائر جاری کرنے سے ملنے والا ریلیف اس بات پر منحصر ہوگا کہ کتنی مقدار کتنی تیزی سے عالمی مارکیٹ تک پہنچتی ہے اور توانائی کی سپلائی میں رکاوٹیں کب تک برقرار رہتی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔