ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان، روزمرہ اشیا مزید مہنگی ہونے کا خدشہ
کریسل کی رپورٹ کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے ملک میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے خوراک، کپڑے، الیکٹرانکس اور دیگر اشیا مہنگی ہونے کا اندیشہ ہے

کریسل کی رپورٹ کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے ملک میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے خوراک، کپڑے، الیکٹرانکس اور دیگر اشیا مہنگی ہونے کا اندیشہ ہے۔
کریسل کی تازہ رپورٹ نے ملک میں مہنگائی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں آنے والے مہینوں میں اشیائے ضروریہ سمیت مختلف شعبوں میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کا براہ راست اثر عام صارفین کے بجٹ پر پڑے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 15 مئی کے بعد سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً ساڑھے سات روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر خام تیل کی عالمی قیمتیں موجودہ بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں تو مستقبل قریب میں یہ اضافہ 10 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے سے سب سے پہلے نقل و حمل کے شعبے پر دباؤ بڑھتا ہے، کیونکہ ملک میں زیادہ تر مال برداری سڑکوں کے ذریعے ہوتی ہے اور اس کا انحصار بڑی حد تک ڈیزل پر ہے۔
کریسل کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں ساڑھے سات روپے فی لیٹر اضافے سے خوردہ مہنگائی کی شرح میں تقریباً 0.36 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ اگر قیمتیں 10 روپے فی لیٹر تک بڑھ جاتی ہیں تو مہنگائی میں 0.48 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت پوری معیشت میں نقل و حمل کے اخراجات بڑھائے گی، جس کے نتیجے میں خوراک اور دیگر اشیا کی قیمتیں بھی اوپر جا سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سڑک کے ذریعے مال برداری کی لاگت کا تقریباً 42 فیصد حصہ ایندھن پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر اسی شعبے پر پڑے گا۔ چونکہ ملک میں تقریباً 71 فیصد مال برداری سڑکوں کے ذریعے انجام دی جاتی ہے، اس لیے اس کے اثرات وسیع پیمانے پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
کریسل نے خبردار کیا ہے کہ دودھ، پھل، دالیں، چائے، کافی، مصالحے، انڈے، گوشت اور مچھلی جیسی غذائی اشیا کی قیمتوں میں تیزی آ سکتی ہے کیونکہ ان کی ترسیل نقل و حمل کے وسیع نظام پر منحصر ہے۔ اس کے علاوہ کپڑا، صارفین کی الیکٹرانک مصنوعات، لکڑی کی اشیا، سیمنٹ، سیرامک، کیمیکل، کوئلہ اور دھاتوں سے متعلق صنعتیں بھی بڑھتی لاگت سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں اشیا و خدمات ٹیکس کی بعض شرحوں میں کمی سے کچھ حد تک ریلیف ضرور مل سکتا ہے، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت کے اثرات کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران خام تیل کی اوسط قیمت 112 ڈالر فی بیرل رہی، جو پورے سال کے لیے متوقع 95 ڈالر فی بیرل سے کہیں زیادہ ہے۔
اگرچہ موجودہ مہنگائی ابھی ریزرو بینک کے چار فیصد ہدف سے نیچے ہے، تاہم آئندہ مہینوں میں اس میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریزرو بینک مہنگائی کے رجحانات کے ساتھ ساتھ کمزور مانسون اور ال نینو جیسے موسمی عوامل پر بھی نظر رکھے گا، کیونکہ یہ عوامل غذائی مہنگائی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
