سپنوں سے حقیقت تک: ذاکر حسین دہلی کالج میں دہلی یونیورسٹی کے ساتھ شاندار صد سالہ وابستگی کا جشن

کالج کے 7 زبان و ادب کے شعبوں اردو، عربی، فارسی، ہندی، انگریزی، بنگالی اور سنسکرت نے زبان و ادب کے فروغ اور جشن کے طور پر اس یک روزہ لٹریری فیسٹیول کا انعقاد کیا۔

<div class="paragraphs"><p>ذاکر حسین دہلی کالج میں ادبی تقریب کا انعقاد</p></div>
i
user

محمد تسلیم

نئی دہلی: ذاکر حسین دہلی کالج مارننگ میں آج پہلی مرتبہ ایک تاریخی اور یادگار ادبی میلہ بعنوان ’لٹریری ایکوز 2026‘ نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ کالج کے 7 زبان و ادب کے شعبہ جات اردو، عربی، فارسی، ہندی، انگریزی، بنگالی اور سنسکرت نے زبان و ادب کے فروغ اور جشن کے طور پر اس یک روزہ لٹریری فیسٹیول کا انعقاد کیا، جو صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہا۔ اس موقع پر مختلف زبانوں کی ادبی روایت، فکری تنوع اور ثقافتی ہم آہنگی کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔

فیسٹیول کے دوران رقص، غزل سرائی، بیت بازی، مضمون نگاری، ادبی کوئز، خطاطی (کیلی گرافی)، مباحثے، خطابت، شلوک واچن اور شلوک لیکھن سمیت متعدد ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد کیے گئے۔ طلبہ و طالبات نے نہایت جوش و خروش کے ساتھ ان سرگرمیوں میں حصہ لیا اور اپنی تخلیقی، فکری اور فنّی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، جسے حاضرین کی بے حد تعریف حاصل ہوئی۔


شعبۂ اردو کی جانب سے منعقدہ پروگرام کی صدارت کالج کے سینئر استاد پروفیسر محمد جعفر احراری نے کی، جبکہ بزم ادب کے صدر ڈاکٹر ہردے بھانو پرتاپ کے مؤثر کوآرڈینیشن میں یہ سرگرمیاں انجام پائیں۔ اس موقع پر بالخصوص انٹرکلاس بیت بازی، غزل سرائی اور مضمون نویسی کے مقابلے منعقد کیے گئے، جن میں طلبہ و طالبات نے بڑی دلجمعی اور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔

<div class="paragraphs"><p>تقریب کا منظر</p></div>

تقریب کا منظر

تصویر: محمد تسلیم

غزل سرائی کے مقابلے میں انسیہ نظامی نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ محمد شارق رضا دوسرے اور محمد صفوان تیسرے مقام پر رہے۔ اسی طرح انٹرکلاس بیت بازی کے مقابلے میں نمرہ ناز، کیف مسعودی اور افراح تبسم پر مشتمل ٹیم نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جب کہ محمد فیصل خان، رخشندہ اور معظم اقبال کی ٹیم دوسرے مقام پر رہی اور تیسری پوزیشن پر محمد سہیل، محمد ہمایوں عبدالله اور شائستہ پر مشتمل ٹیم نے حاصل کی۔


ان مقابلہ جاتی سرگرمیوں میں شعبۂ اردو کے اساتذہ ڈاکٹر محمد اعلم شمس، ڈاکٹر محمد معین الدین خان، ڈاکٹر شاہانہ بیگم اور ڈاکٹر محمد مستمر نے جج اور ممتحن کے فرائض انجام دیے۔ پروفیسر محمد جعفر احراری نے اپنے صدارتی خطبے میں طلبہ و طالبات کو شاندار کارکردگی پر مبارکباد پیش کی اور ان کی ادبی و تخلیقی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے حوصلہ افزا کلمات سے نوازا۔

اس فیسٹیول کا تصور کالج کے پرنسپل پروفیسر نریندر سنگھ کی ڈائنامک قیادت کا نتیجہ تھا، جسے ڈاکٹر شردھا آدتیہ ویر سنگھ کے کوآرڈینیشن میں بخوبی عملی جامہ پہنایا گیا۔ فیسٹیول کا بنیادی مقصد لسانی ہم آہنگی کو فروغ دینا، تہذیبی تنوع کو اجاگر کرنا اور طلبہ میں ادبی شعور و تخلیقی ذوق کو بیدار کرنا تھا۔ اساتذہ اور شرکاء نے اس ادبی میلے کو کالج کی ادبی روایت میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اس نوعیت کے ادبی و ثقافتی پروگرام تسلسل کے ساتھ منعقد کیے جاتے رہیں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔