منی پور میں ایک بار پھر تشدد، 15 مکانات نذرِ آتش، سرحدی علاقے میں سکیورٹی فورسز تعینات
منی پور کے کامجونگ ضلع کے فائمول کوکی گاؤں میں نامعلوم حملہ آوروں نے 15 مکانات کو آگ لگا دی۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں پہنچ کر صورت حال پر قابو پایا، جبکہ مقامی باشندگان نقل مکانی پر مجبور ہوئے

منی پور میں تشدد کا سلسلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ بی بی سی ہندی کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز ریاست کے کامجونگ ضلع کے فائمول کوکی گاؤں میں نامعلوم شرپسندوں نے کم از کم 15 مکانات کو آگ لگا دی، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی اور سکیورٹی فورسز کو فوری طور پر تعینات کر دیا گیا۔
کامجونگ ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ تھولو راکی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ بدھ کی دوپہر تقریباً ساڑھے 12 بجے ہوا۔ ان کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے فائمول کوکی گاؤں میں آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 15 مکانات جل کر خاکستر ہوگئے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ گاؤں چسّاڈ پولیس اسٹیشن سے تقریباً 45 کلومیٹر شمال مشرق میں، ہندوستان-میانمار سرحد پر واقع سرحدی ستون نمبر 113 کے قریب واقع ہے۔ اطلاع ملنے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر صورت حال کو قابو میں لے لیا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ آگ سے میانمار سے آئے ہوئے بعض پناہ گزینوں کی جھونپڑیاں اور تانگ کھول برادری کے چند مکانات بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ تاہم اس واقعے میں کسی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ پولیس نے ازخود مقدمہ درج کرکے واقعے کی جانچ شروع کر دی ہے۔
خیال رہے کہ منی پور میں گزشتہ تقریباً 3 برس سے کوکی اور میتئی برادریوں کے درمیان تشدد جاری ہے، جبکہ رواں برس فروری سے کوکی اور تانگ کھول ناگا برادریوں کے درمیان بھی جھڑپوں کا سلسلہ چل رہا ہے۔ ان حالیہ جھڑپوں میں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران 20 سے زائد افراد جان گنوا چکے ہیں۔
تازہ واقعے کے بعد فائمول گاؤں کے بیشتر باشندوں نے اپنا علاقہ چھوڑنا شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں دیہاتیوں نے عارضی طور پر گیارہویں آسام رائفلز کے کیمپ کے قریب پناہ لے رکھی ہے۔
پولیس کے ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ فائمول گاؤں کو نذر آتش کیے جانے کے بعد دوپہر تقریباً دو بجے کچھ مسلح افراد نے شنگھ لوک تانگ کھول ناگا گاؤں کو بھی آگ لگانے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث وہ اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ یہ گاؤں بھی ہندوستان-میانمار سرحد کے قریب سرحدی ستون نمبر 101 کے نزدیک واقع ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
