سماج وادی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی عالم بدیع: حیات و کوائف
عالم بدیع سماجوادی پارٹی سے وابستہ تھے اور اعظم گڑھ کے نظام آباد سے 5 مرتبہ رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر تھے اور سادہ طرزِ زندگی کے لیے مشہور تھے۔

اتر پردیش کے بزرگ سیاست داں سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی عالم بدیع اعظمی کا آج جمعرات کی صبح انتقال ہو گیا۔ وہ سماجوادی پارٹی سے وابستہ تھے اور اعظم گڑھ کے نظام آباد سے 5 مرتبہ رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر تھے۔ عالم بدیع کا گورکھپور سے گہرا تعلق تھا۔ وہ اپنی سادہ طرزِ زندگی کے لیے مشہور تھے۔ اگرچہ انہوں نے سیاست میں کافی تاخیر سے قدم رکھا، لیکن انہوں نے جلد ہی سیاسی حلقوں میں ایک بااثر اور ایماندار لیڈر کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کی۔ 60 برس کی عمر میں سیاست کے میدان میں اترنے والے عالم بدیع کو ملائم سنگھ یادو نے 1996 کے اسمبلی انتخابات میں نظام آباد اسمبلی حلقے سے امیدوار بنایا، جہاں انہوں نے سخت مقابلے کے بعد اپنی پہلی انتخابی کامیابی حاصل کی۔ 2002 کے انتخابات میں بھی وہ کامیاب رہے۔
2007 کے انتخابات میں اترپردیش میں مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی نے زبردست کامیابی حاصل کرکے حکومت بنائی، اور نظام آباد اسمبلی حلقہ بھی اسی کامیابی کا حصہ تھا۔ اس انتخاب میں نظام آباد سے عالم بدیع کو بی ایس پی کے انگد یادو نے شکست دی۔ لیکن اس شکست کے بعد انہوں نے اسی نشست سے اپنی کامیابی کی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ وہ 2012، 2017 اور 2022 کے اسمبلی انتخابات میں مسلسل کامیاب ہوئے۔ عالم بدیع کی پیدائش 16 مارچ 1936 کو اعظم گڑھ میں ہوئی تھی، لیکن ان کی ابتدائی تعلیم گورکھپور میں ہوئی۔ گورکھپور کے بخشی پور میں واقع اسلامیہ انٹر کالج میں ان کے والد بدیع الزماں اعظمی گیمز ٹیچر تھے۔ اسی وجہ سے وہ بھی یہیں رہے اور اسی اسکول سے 12 ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے الیکٹریکل اور میکینیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی ملازمت محکمۂ آبپاشی میں ہوئی۔ انہوں نے گورکھپور کی گولا تحصیل سمیت کئی مقامات پر خدمات انجام دیں۔
سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے سیاست میں قدم رکھا۔ انہوں نے 1950 میں اسلامیہ سے ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا تھا، لیکن کسی وجہ سے اس وقت اپنا سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کر سکے تھے۔ اس کے 76 سال بعد رواں سال اپریل میں اسکول گئے، جہاں ایک شاندار تقریب میں انہیں سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا۔ اپنی دیانت داری اور سادگی کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں منفرد شناخت رکھنے والے عالم بدیع کو کئی مرتبہ وزیر بننے کی پیشکش بھی کی گئی، لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ان کی جگہ کسی نوجوان کو یہ ذمہ داری دی جانی چاہیے۔ سابق وزیرِ اعلیٰ ملائم سنگھ یادو کے بعد اکھیلیش یادو سے بھی ان کے قریبی تعلقات رہے۔ سرکاری ملازمت، پھر سیاست، اور وہ بھی 5 مرتبہ رکنِ اسمبلی بننے کے باوجود عالم بدیع نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ رکن اسمبلی بننے کے بعد بھی وہ مہنگی اور بڑی گاڑیوں کے بجائے روڈویز بسوں میں سفر کیا کرتے تھے۔ لکھنؤ میں اسمبلی جانے کے لیے وہ اپنی اسکوٹی استعمال کرتے تھے۔ وہ وی آئی پی کلچر، یعنی گنر یا کسی بھی قسم کی سرکاری سیکورٹی، نہیں رکھتے تھے۔ 90 سال کی عمر میں بھی انتخاب جیتنے والے عالم بدیع کی دیانت دار اور سادہ شخصیت ان کے کئی سیاسی حریفوں پر بھاری پڑتی تھی۔ وہ کبھی بھی بڑے قافلے کے ساتھ انتخابی مہم نہیں چلاتے تھے۔ ایسے دور میں جب انتخابات جیتنے کے لیے سیاست داں لاکھوں اور کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں، عالم بدیع ایک انتخاب میں محض 2 سے 3 لاکھ روپے ہی خرچ کرتے تھے اور اس کے باوجود کامیاب ہو جاتے تھے۔ 5 مرتبہ رکنِ اسمبلی رہنے کے باوجود ان کے پاس زیادہ جائیداد نہیں تھی۔ ان کے پاس منقولہ اور غیر منقولہ ملا کر تقریباً 40 لاکھ روپے کی جائیداد تھی، اور ان کے نام پر ایک کار بھی تھی۔
