سابق وزیر ستیندر جین گرفتار، دہلی جل بورڈ ٹینڈر معاملے میں اے سی بی کی بڑی کارروائی

دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین کو جل بورڈ کے مبینہ ٹینڈر گھوٹالے میں اے سی بی نے گرفتار کر لیا۔ اے سی بی نے ٹینڈر میں مبینہ ملی بھگت اور 1.52 کروڑ روپے کی مشتبہ منتقلی کا الزام لگایا ہے

<div class="paragraphs"><p>ستیندر جین، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

نئی دہلی: دہلی حکومت کے سابق وزیر اور عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رہنما ستیندر کمار جین کو دہلی جل بورڈ کے مبینہ ٹینڈر گھوٹالے کے معاملے میں اینٹی کرپشن برانچ (اے سی بی) نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس معاملے میں جین سمیت 6 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد میں دہلی جل بورڈ کے سابق سی ای او اور سینئر آئی اے ایس افسر ادت پرکاش رائے بھی شامل ہیں۔

اے سی بی کے مطابق، معاملہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) کی اپ گریڈیشن اور ان کی صلاحیت بڑھانے کے لیے جاری کیے گئے ٹینڈر سے متعلق ہے۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ ٹینڈر کی تکنیکی شرائط میں مبینہ طور پر اس انداز میں تبدیلی کی گئی، جس سے ایک مخصوص کمپنی ’یوروٹیک انوائرنمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو براہ راست فائدہ پہنچایا جا سکے۔

اے سی بی نے اس معاملے میں جین کے علاوہ ادت پرکاش رائے، سابق کنٹریکچوئل کنسلٹنٹ انکت سریواستو، اے این انٹرپرائزز کے پروپرائٹر ناگیندر یادو، یوروٹیک انوائرنمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک راجا کمار کُرا اور شری جَہنار کے پروپرائٹر پنکج ورما کو بھی گرفتار کیا ہے۔


تفتیشی ایجنسی کے مطابق، ٹینڈر کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ایف آئی آر 11 مئی 2024 کو درج کی گئی تھی۔ اس میں انسدادِ بدعنوانی قانون کے علاوہ دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازش سے متعلق دفعات شامل کی گئی تھیں۔

اے سی بی کا دعویٰ ہے کہ ایس ٹی پی سے متعلق ٹینڈر میں ایسی شرائط شامل کی گئیں جن سے دیگر کمپنیوں کے درمیان مقابلہ محدود ہو گیا۔ ایجنسی کے مطابق، مجوزہ پائلٹ اسٹڈی کرائے بغیر ہی ایسی تکنیکی شرائط شامل کی گئیں جن کا فائدہ ایک مخصوص کمپنی کو پہنچا۔ اس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مبینہ طور پر بھاری مالی نقصان ہوا۔

تفتیش کے دوران اے سی بی کو متعدد الیکٹرانک شواہد بھی ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق، نجی افراد، درمیانی کردار ادا کرنے والے افراد اور سرکاری افسران کے درمیان ای میل اور پیغامات کا تجزیہ کیا گیا۔ اس سے مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ ٹینڈر کے دستاویزات اور بعد میں جاری کیے جانے والے کوریجنڈم پہلے ہی آپس میں شیئر کیے گئے تھے، جنہیں بعد میں سرکاری ٹینڈر کا حصہ بنایا گیا۔

اے سی بی نے سابق سی ای او ادت پرکاش رائے اور ان کے رشتہ داروں کے بینک کھاتوں میں تقریباً 1.52 کروڑ روپے منتقل کیے جانے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق، یہ رقم اے این انٹرپرائزز کے ذریعے منتقل کی گئی اور اس کے لیے یوروٹیک سے وابستہ اداروں کا استعمال کیا گیا۔ تفتیش کار اس رقم کی مبینہ منی ٹریل کی مزید جانچ کر رہے ہیں۔


دوسری جانب عام آدمی پارٹی نے ستیندر جین کی گرفتاری کو سیاسی کارروائی قرار دیا ہے۔ پارٹی کے قومی میڈیا انچارج انوراگ ڈھانڈا نے ایکس پر کہا کہ جس جل بورڈ ٹینڈر کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اس وقت ستیندر جین جیل میں تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جیل میں رہتے ہوئے وہ اس معاملے کے لیے ذمہ دار کیسے ہو سکتے ہیں۔

ڈھانڈا نے الزام لگایا کہ ستیندر جین پنجاب کے شریک انچارج ہیں اور پنجاب میں انتخابات ہونے والے ہیں، اس لیے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اے اے پی نے گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ عام آدمی پارٹی سے خوف زدہ ہے۔