عدالتوں میں صنفی مساوات پر سابق چیف جسٹس کا الزام ‘حکومت کے پاس قوت ارادی کا فقدان‘ ہے

سابق سی جے آئی رمنا نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں خواتین ججوں کی تقرری کے لیے اکثر لاپرواہی والا رویہ اپنایا ہے جبکہ نچلی سطح پر خواتین ججوں کی نمائندگی 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا / ٹوئٹر
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: ’عالمی یوم خواتین‘ کے موقع پر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس (سی جے آئی) این وی رمنا نے ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں صنفی مساوات کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس آئینی عدالتوں میں صنفی مساوات کو یقینی بنانے کے لیے قوت ارداری کا فقدان نظرآتا ہے جبکہ ٹرائل کورٹ کی سطح پر خواتین ججوں کی نمائندگی تقریباً 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

سپریم کورٹ کے احاطے میں ’انڈین ویمن ان لا‘ کی پہلی قومی کانفرنس کے دوران منعقدہ سوال و جواب کے سیشن میں بات کرتے ہوئے سابق سی جے آئی رمنا نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں خواتین ججوں کی تقرری کے لیے اکثر لاپرواہی والا رویہ اپنایا ہے۔ سابق چیف جسٹس کی مدت کار اپریل 2021 سے اگست 2022 تک رہی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں متعدد تنازعات اور دباؤ کے باوجود 3 خواتین جج (جسٹس ہیما کوہلی، بیلا ایم ترویدی اور بی وی ناگرتھنا)  نے حلف اٹھایا اور تاریخ رقم کردی۔ تب سے اب تک سپریم کورٹ میں کسی اور خاتون جج کی تقرری نہیں ہوئی ہے۔


جسٹس رمنا نے کہا کہ جسٹس بی وی ناگرتنا اگلے سال 24 ستمبر کو ملک کی پہلی خاتون چیف جسٹس بننے والی ہیں۔ ان کے بعد آنے والے چیف جسٹس پی ایس نرسمہا ہوں گے۔ دونوں کی موجودگی میں بات کرتے ہوئے جسٹس رمنا نے کہا کہ اس میٹنگ میں مستقبل کے دو چیف جسٹس موجود ہیں اور امید ہے کہ ان کے دور میں سپریم کورٹ میں کم از کم 7-8 خواتین ججوں کی تقرری کی جائے گی۔ جسٹس رمنا نے کہا کہ حالانکہ ایک کے بعد ایک وزرائے قانون نے مستقل طور پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ہائی کورٹ جج کے طور پر مقررکرنے کے لیے خواتین وکلاء اور عدالتی افسران کے ناموں کی سفارش کرنے کی گزارش کی گئی تھی لیکن حکومت نے اس پر کبھی کوئی توجہ نہیں دی۔