’اکثریت نہ ہونے پر فنانس بلوں کے ذریعے قانون بنانے والی مودی حکومت کو عدالت سے دھچکا‘
کانگریس نے کہا، راجیہ سبھا میں اکثریت نہیں ہونے کے بعد فنانس بلوں کے ذریعہ پارلیمنٹ میں قانون بنانے کا راستہ اپنا چکی مودی حکومت کو سپریم کورٹ نے دھچکا دیا ہے اور یہ جمہوریت کی جیت ہے

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ راجیہ سبھا میں اکثریت نہیں ہونے کی وجہ سے فنانس بلوں کے ذریعہ پارلیمنٹ میں قانون بنانے کا راستہ اپنا چکی مودی حکومت کو سپریم کورٹ نے دھچکا دیتے ہوئے یہ معاملہ بڑی بنچ کو سونپا ہے اور یہ جمہوریت کی جیت ہے۔
کانگریس ترجمان جے رام رمیش‘ ابھیشیک منو سنگھوی اور رن دیپ سنگھ سرجے والا نے آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت نے نیشنل گرین ٹریبونل‘ سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل‘ اپیلیٹ ٹریبونل سمیت 19ٹریبونلوں میں ترمیم کرکے انہیں کمزور کرنے کی سازش کی لیکن اس سلسلے میں ان کی 2017کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے معاملہ بڑی بنچ کو سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔اور یہ فیصلہ اس حکومت کے لئے بڑی وارننگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں حکومت کی اکثریت نہیں ہے اس لئے وہ فائنانس بل کا راستہ اپنا کر من مانی کرتی رہی ہے جس پر عدالت نے اسے دھچکا دیا ہے۔ حکومت اب کسی بھی آرڈیننس یا ترمیمی بل کو لوک سبھا میں منظور کرانے کے بعد فائنانس بل کی شکل میں راجیہ سبھا کو بھیجنے پر کئی بار غور کرے گی۔ اس طریقہ کار کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے والی حکومت کے لئے یہ دھچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ جمہوریت اور راجیہ سبھا کی جیت ہے۔
خیال رہے کہ عدالت نے آج اکثریتی فیصلے کے ساتھ فائنانس بل 2017 کے معاملہ کو بڑی بنچ کے سپر د کردیا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے دفتر کو اطلاعات کا حق قانون میں لانے سے متعلق عدالت کے فیصلے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس ہو یا وزیر اعظم کا دفتر کسی کو بھی آر ٹی آئی کے دائرے سے باہر نہیں رکھنا چاہئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے اس قانون کو بھی کمزور کیا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
