سعودی عرب میں پہلی بار کسی ہندو افسر کو بنایا گیا سفیر، سہیل اعجاز خان کے جانشین ہوں گے وپُل
ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ کچھ برسوں میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع اوراسٹریٹجک تعاون میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ سعودی عرب میں بڑی تعداد میں ہندوستانی بھی رہتے اور کام کرتے ہیں۔
حکومت ہند کی جانب سے سینئر سفارتکار وپل کو سعودی عرب میں ہندوستان کا نیا سفیر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ سعودی عرب میں ہندوستان کے سفیر کے طور پر مقرر ہونے والے پہلے ہندو آئی ایف ایس افسر ہیں، ان سے پہلے ڈاکٹر سہیل اعجاز خان اس عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ڈاکٹر سہیل نے 16 جنوری 2023 کو سعودی عرب میں ہندوستان کے سفیر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔
وزارت خارجہ نے نئی تقرری کا اعلا ن کرتے ہوئے کہا کہ وپل جلد ہی سعودی عرب میں اپنا چارج سنبھالیں گے۔ فی الحال وہ قطر میں ہندوستان کے سفیر ہیں اور خلیجی ممالک میں کام کرنے کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ وپل 1998 بیچ کے انڈین فارین سروس (آئی ایف ایس) افسر ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں کئی ممالک میں ہندوستان کی نمائندگی کی ہے۔
وپل کی تقرری ایسے وقت ہوئی ہے جب مغربی ایشیا میں مسلسل کشیدگی پائی جارہی ہے اور سعودی عرب کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ اپنے طویل سفارتی کیریئر کے دوران وپل نے مصر کی راجدھانی قاہرہ، سری لنکا کی راجدھانی کولمبو، سوئٹزر لینڈ کے جنیوا اور متحدہ عرب امارات کے دبئی میں ہندوستانی مشنوں میں کام کیا ہے۔ ان مقامات پر انہوں سفارتی تعلقات، تجارت، ترقیاتی تعاون، بین الاقوامی سلامتی، تخفیف اسلحہ اور میڈیا امور جیسے مختلف شعبوں کی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔
وزارت خارجہ میں بھی وپل کا اہم کردار رہا ہے۔ وہ 2014 سے 2017 تک وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری رہے۔ اس دوران انہوں نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی سےمتعلق کئی اہم معاملات پر کام کیا۔ اس کے بعد 2017 سے 2020 تک وہ دبئی میں ہندوستان کے قونصل جنرل رہے۔ دبئی اور خلیجی ممالک میں ان کے تجربے کو ان کی بڑی طاقت مانا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان 50 مشترکہ معاہدوں پر دست خط
ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ کچھ برسوں میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع اور اسٹریٹیجک تعاون میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ سعودی عرب میں بڑی تعداد میں ہندوستانی بھی رہتے اور کام کرتے ہیں۔ ایسے میں وپل کی تقرری کو کافی اہم مانا جارہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ہندوستان اور سعودی عرب کے رشتوں کو مزید مضبوط بنانے میں ان کے تجربے کا فائدہ ملے گا۔
