سیلاب نے کئی ریاستوں کو کیا بے حال، آسام اور کیرالہ میں 112 ہلاکتیں، اڈیشہ کے 22 اضلاع میں 8 لاکھ لوگ متاثر

کیرالہ میں یکم اگست سے مسلسل ہو رہی شدید بارش نے کئی اضلاع میں حالات سنگین بنا دیے ہیں۔ شدید بارش کے سبب 52 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں، جبکہ 565 مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>بارش سے سیلاب کا منظر / فائل تصویر، آئی اے این ایس</p></div>
i

ملک کی مختلف ریاستوں میں بارش نے زبردست تباہی مچائی ہے۔ سب سے زیادہ اثر کیرالہ اور آسام میں دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں مسلسل ہو رہی موسلادھار بارش نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ کیرالہ میں شدید بارش اور سیلاب سے اب تک 25 افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ 4 افراد لاپتہ ہیں۔ دوسری جانب، آسام میں سیلاب سے 87 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یعنی آسام اور کیرالہ میں مجموعی طور پر اب تک 112 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ دونوں ریاستوں میں ہزاروں افراد راحتی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اور انتظامیہ مسلسل بچاؤ کارروائیوں میں مصروف ہے۔

کیرالہ میں یکم اگست سے مسلسل ہو رہی شدید بارش نے کئی اضلاع میں حالات سنگین بنا دیے ہیں۔ ریاستی حکومت کے مطابق بارش سے متعلق واقعات میں اب تک 25 افراد کی جان جا چکی ہے، 4 افراد لاپتہ ہیں اور 10 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ شدید بارش کے سبب 52 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں، جبکہ 565 مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ پوری ریاست میں قائم کیے گئے 400 سے زیادہ راحتی کیمپوں میں 18 ہزار سے زائد افراد رہ رہے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں پتنم تھٹا، کوٹایم اور الپوژا شامل ہیں، جہاں کئی نشیبی علاقے اب بھی زیر آب ہیں۔


ہندوستانی محکمۂ موسمیات کے مطابق یکم سے 4 اگست کے درمیان کیرلم میں 205.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ معمول کی بارش 73.2 ملی میٹر ہوتی ہے۔ یعنی ریاست میں معمول سے 181 فیصد زیادہ بارش ہوئی ہے۔ مسلسل خراب موسم کے پیشِ نظر محکمۂ موسمیات نے پتنم تھٹا، کوٹایم، اڈوکی، ارناکولم، کوژیکوڈ، وائناڈ، کنور اور کاسرگوڈ اضلاع میں ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ کئی دیگر اضلاع میں آرینج اور یلو الرٹ نافذ ہے۔

بارش اور سیلاب کے سبب ہزاروں خاندانوں کی ضروری دستاویزات، بچوں کی اسکول کی کتابیں اور گھریلو سامان بہہ گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ متاثرہ افراد کی دستاویزات دوبارہ بنوانے کے لیے خصوصی عدالتیں لگائی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی بچوں کو نئی درسی کتابیں فراہم کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے گھر اور روزگار سے محروم ہونے والے لوگوں کو فوری مالی امداد دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس کے علاوہ ہر وارڈ میں صفائی کے کام کے لیے 25 ہزار روپے منظور کیے گئے ہیں۔


آسام میں سیلاب کی صورت حال میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے، لیکن بحران ابھی پوری طرح ٹلا نہیں ہے۔ آسام ریاستی آفات انتظامیہ اتھارٹی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں شیوساگر ضلع میں مزید دو افراد کی موت کے بعد اس سال سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 87 ہو گئی ہے۔ ریاست کے 6 اضلاع اب بھی سیلاب کی زد میں ہیں اور تقریباً 1.28 لاکھ افراد متاثر ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ شیوساگر ضلع میں 55 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہیں، جبکہ چرائیدیو اور جورہاٹ میں بھی ہزاروں افراد سیلاب سے نبرد آزما ہیں۔

دوسری طرف اڈیشہ کے وزیراعلیٰ موہن چرن ماجھی نے سیلاب متاثرین کے لیے 110 کروڑ روپے کے ابتدائی راحتی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے سروے شروع کر دیا ہے۔ سیلاب میں اب تک 6 افراد کی موت ہوئی ہے اور 3,567 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ حکومت نے اہل خاندانوں کو جلد معاوضہ دینے کی ہدایات دی ہیں۔ مکمل طور پر تباہ شدہ مکانات کے لیے 1.2 لاکھ روپے تک کی امداد ملے گی، جبکہ فصلوں اور مویشیوں کے نقصان کا بھی ایس ڈی آر ایف کے معیار کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا۔ ریاست کے 22 اضلاع میں تقریباً 8.64 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔


اس درمیان ہندوستانی محکمۂ موسمیات نے اروناچل پردیش اور میگھالیہ کے 15 اضلاع میں شدید بارش کا ریڈ اور آرینج الرٹ جاری کیا ہے۔ محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ ان ریاستوں میں ہونے والی بارش کا اثر آسام کے سرحدی اضلاع پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ناگالینڈ کے کئی حصوں کے لیے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔