اوڈیشہ کے کیندرپاڑہ میں سیلاب کی تباہکاری، اسکول میں پھنسے 255 طلبہ کا ریسکیو
اوڈیشہ کے کیندرپاڑہ میں شدید بارش سے سیلابی صورت حال سنگین ہو گئی ہے۔ کولاساہی آشرم اسکول میں پھنسے 255 طلبا میں سے 240 کو بحفاظت نکال کر ریزیڈنشیل اسکول منتقل کیا گیا، باقی کا ریسکیو جاری ہے

کیندرپاڑہ: اوڈیشہ کے کیندرپاڑہ ضلع میں شدید بارش کے بعد سیلاب کی صورت حال سنگین ہو گئی ہے۔ دریں اثنا، کولاساہی آشرم اسکول میں سیلابی پانی بھر جانے کے باعث تقریباً 255 طلبا پھنس گئے، جنہیں محفوظ نکالنے کے لیے اوڈیشہ ڈیزاسٹر ریپڈ ایکشن فورس (او ڈی آر اے ایف) اور فائر سروس کی ٹیموں نے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن چلایا۔
ریسکیو آپریشن کے دوران تقریباً 240 طلبا کو بحفاظت نکال کر مہادئی پٹنا ریزیڈنشیل اسکول منتقل کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق باقی طلبا کو بھی محفوظ نکالنے کی کوشش جاری ہے۔ طلبا کو محفوظ مقام پر پہنچانے کے بعد ان کے والدین کو اطلاع دی جائے گی اور حالات معمول پر آنے کے بعد انہیں گھر بھیجا جائے گا۔
کیندرپاڑہ کے سب کلکٹر ارون کمار نائک نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ بچے تقریباً تین دن سے سیلابی پانی کے درمیان پھنسے ہوئے تھے۔ دریا میں پانی کا بہاؤ انتہائی تیز ہونے کی وجہ سے ابتدائی دنوں میں راحت اور بچاؤ کا کام مشکل تھا۔ تاہم اب صورت حال میں کچھ بہتری آئی ہے اور پانی کی سطح بھی قدرے کم ہوئی ہے، جس کے بعد تربیت یافتہ ٹیموں کی مدد سے ریسکیو آپریشن تیز کیا گیا۔
سب کلکٹر کے مطابق طلبا کو نکالنے کے لیے مجموعی طور پر آٹھ ٹیمیں تعینات کی گئی تھیں۔ ٹیموں نے پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کرتے ہوئے بچوں کو محفوظ نکالا اور انہیں محفوظ مقام تک پہنچایا۔ انتظامیہ کی جانب سے ان کے قیام، خوراک اور دیگر ضروری سہولیات کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
بی جے پی کے رکن اسمبلی درگا پرسنّا نائک نے ضلع میں سیلاب کی صورت حال پر کہا کہ اس مرتبہ توقع سے کہیں زیادہ بارش ہوئی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 1100 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ 25 برسوں میں نہیں ہوئی تھی۔ شدید بارش کے باعث اوڈیشہ کے کئی علاقوں میں سیلاب جیسے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔
رکن اسمبلی نے کہا کہ سیلاب کے دوران کئی بچے آشرم اسکولوں میں پھنس گئے تھے۔ حکومت کی جانب سے انہیں ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ، سب کلکٹر، بی ڈی او اور دیگر انتظامی افسران موقع پر موجود ہیں اور راحت و بچاؤ کے کام کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
