’پہلے غلطی کی تو شروع ہوئی جنگ‘، امریکی خفیہ معلومات کو عباس عراقچی نے فرضی قرار دیا
عباس عراقچی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’امریکہ طویل عرصے سے خفیہ معلومات سے متعلق غلطیوں کے باعث غلط اندازے لگاتا رہا ہے۔ اب ابنائے ہرمز کے معاملے میں اس سے بھی بڑی غلطی کی جا رہی ہے۔‘‘

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایک بار پھر امریکی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے امریکہ کی خفیہ معلومات پر سوال کھڑے کیے۔ موجودہ حالات کے لیے عراقچی نے امریکہ کی خفیہ معلومات کی غلطیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’امریکہ طویل عرصے سے خفیہ معلومات سے متعلق غلطیوں کے باعث غلط اندازے لگاتا رہا ہے۔ اس کی ایک مثال ایران کے خلاف جنگ ہے۔ اب ابنائے ہرمز کے معاملے میں اس سے بھی بڑی غلطی کی جا رہی ہے۔ فرضی خبروں سے بھی زیادہ خطرناک چیز فرضی خفیہ معلومات ہوتی ہیں۔ اللہ عظیم ہے، زمین کی کسی بھی طاقت سے بڑا ہے۔ ہمیں اللہ پر بھروسہ ہے۔‘‘
واضح رہے کہ عباس عراقچی نے مذکورہ پوسٹ آبنائے ہرمز میں امریکہ کے کنٹرول والے دعوے کو لے کر کی ہے۔ امریکہ مسلسل آبنائے ہرمز میں اپنے دعوے کی بات کہہ رہا ہے جبکہ ایران ہر بار اس کے اس دعوے کو مسترد کر دیتا ہے۔ بدھ کے روز بھی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکہ کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر اپنی پکڑ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم اسے برقرار رکھیں گے۔‘‘ انہوں نے بحری ناکہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اس کو چیلنج کرنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ہر کوئی ہماری بحری ناکہ بندی کو ’اسٹیل کی دیوار‘ کہہ رہا ہے اور ایران اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا۔
اس سے قبل بھی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو مزید بڑے پیمانے پر بڑھانے کا امکان اب بھی موجود ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کھلا ہوا ہے، لیکن ان کا دعویٰ تھا کہ اس اسٹریٹجک لحاظ سے اہم سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں پر امریکی بحریہ کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس وقت آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے والا واحد فریق امریکی بحریہ ہے۔ ہماری ناکہ بندی پوری طرح مؤثر رہی ہے۔ یہ ایک مضبوط اسٹیل کی دیوار کی طرح ہے۔ ہم صرف انہی لوگوں کو اندر آنے دیتے ہیں جنہیں ہم آنے دینا چاہتے ہیں اور وہی لوگ اندر آتے ہیں اور باہر جاتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، لیکن انہیں ایران جانے کی اجازت نہیں ہے۔
